توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 183 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 183

توہین رسالت کی سزا 183 } قتل نہیں ہے مسائل کا حل اس طرح نہیں ہوتا۔چنانچہ الوجہ الرابع کے تحت زیر عنوان ” سَبُّ الرَّسُولِ يُوْجِبُ نَقْضَ عَهْدِ الذِي “ لکھا ہے: إِنَّهُ قَالَ تَعَالى ( أَلَا تُقَاتِلُونَ قَوْماً نَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ وَهُم بَدَؤُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ (التوبه: (13) فَجَعَلَ هَمَّهُمْ بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ مِنَ الْمُحَفِّضَاتِ عَلَى قِتَالِهِمْ، وَمَا ذَاكَ إِلَّا لَمَا فِيْهِ مِنَ الْأَذَى ، وَ سَبُّهُ أَغْلَظُ مِنَ الْهَمَ بِإِخْرَاجِهِ ، بِدَلِيْلٍ أَنَّهُ عَلَى اللهُ عَفَا عَامَ السلام الْفَتْحِ عَنِ الَّذِينَ هَمُّوا بِإِخْرَاجِهِ، وَلَمْ يَعْفُ عَمَّنْ سَبَّهُ، فَالْذِي إِذَا أَظْهَرَ سَبِّهُ فَقَدْ نَكَتَ عَهْدَهُ، وَفَعَلَ مَا هُوَ أَعْظَمُ مِنَ الْهَمَّ بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ، وَبَدَأَ بِالْأَذَى ، فَيَجِبُ قِتَالَهُ ، ( الصارم۔۔۔۔۔باب الادلۃ علی انتقاض عھد الذمی الساب۔زیر عنوان ”سب الرسول يوجب نقض عهد الذمی“ صفحہ :22) کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ”بھلا تم ایسے لوگوں سے کیوں نہ لڑو جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا اور پیغمبر خدا کے جلا وطن کرنے کا صتم عزم کر لیا اور انہوں نے تم سے (عہد شکنی کی) ابتدا کی۔“اس آیت میں کفار کے رسول کریم صل الی عوام کو جلا وطن کرنے کے ارادے کو ان کے ساتھ جنگ کا محرک اور موجب قرار دیا ہے ، اس لئے کہ اس سے آپ کو تکلیف پہنچتی ہے۔مگر آپ کو گالی دینا جلا وطن کرنے کے ارادے سے بھی زیادہ شدید ہے۔اس کی دلیل یہ ہے کہ جن لوگوں نے آپ کو جلا وطن کرنے کا ارادہ کیا تھا، فتح مکہ کے روز اُن کو رسول کریم صلی ا ہم نے معاف کر دیا تھا مگر گالی دینے والوں کو معاف نہیں کیا تھا۔بنا بریں ذقی جب آپ کو گالی دے گا تو اپنے عہد کو توڑ دے گا، اور وہ ایسے فعل کا مرتکب ہو گا جو آپ کو جلاوطن کرنے کے ارادے سے عظیم تر ہے اور چونکہ اس نے ایذارسانی کی طرح ڈالی ہے، لہذا اس سے لڑنا واجب ہے۔