توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 143 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 143

توہین رسالت کی سزا 143 قتل نہیں ہے مارے۔اسی طرح کسی اور صحابی نے بھی ایسا کرنے والوں کو سزا نہیں دی۔یہ روایت جو دراصل اپنے حکم کے لحاظ سے ایک شرعی قانون کی حامل ہے اگر درست ہوتی اور اس وقت موجود ہوتی تو حضرت علی اور دیگر صحابہ کیوں اس سے پہلو تہی کرتے ؟ پس ثابت ہوتا ہے کہ در حقیقت یہ روایت وضعی ہے۔اس لئے نہ تو یہ کوئی اسلامی اصول ہے اور نہ ہی کوئی شرعی قانون۔روایت کا ناقابل عمل حصہ : امام ابن تیمیہ کی کتاب' الصارم المسلول کی جلد 2 صفحہ 173 پر یہ روایت بھی درج ہے کہ حضرت خالد بن ولید نے حضرت عبد الرحمن بن عوف کو گالی دی۔( یہ واقعہ آنحضرت صلی ایم کے سامنے ہوا یا آپ کو اس کی اطلاع کی گئی، جو بھی صور تحال تھی اس پر آپ نے حضرت خالد کو کوڑے نہیں مروائے۔بلکہ) آپ نے فرمایا: ” لا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أَحَدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ میرے صحابہ کو گالی نہ دو کیونکہ اگر کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کر لے تو بھی ان میں سے کسی ایک کے ایک نڈ ( غلہ ماپنے کا ایک پیمانہ جو غالباً 68 تولے وزن کے برابر ہے) تو کجا اس کے آدھے کے برابر بھی نہ پہنچے گا۔اگر یہ روایت درست ہوتی تو آنحضرت صلی الله یم خو د حضرت خالد بن ولید کو کوڑے مروا کر یا کوئی بدنی سزا دے کر اپنے عمل سے ایک اصول کا نفاذ کر کے شریعت کا ایک قانون پختہ طور پر قائم فرما جاتے۔مگر آپ نے ایسا نہیں کیا بلکہ نصیحت کے طور پر صحابہ کے بلند مقام کے بیان پر ہی اکتفا فرمایا۔پھر الصارم المسلول میں ابراہیم النخعی سے یہ روایت درج کی گئی ہے : ” شَتْمُ أَبِي بَكْرِ وَعُمَرَ مِنْ الْكَبَابِرِ" اور ابو اسحق السبیعی سے یہ روایت درج کی ہے: ”شَتُمُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْ