توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 142 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 142

توہین رسالت کی سزا { 142 - قتل نہیں ہے میں کمزور اور سمجھ بوجھ میں ناقص، لوگ ان کے بارہ میں باتیں کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ بنیادی کمزوریوں والے قرار دیا ہے۔اس بحث سے یہ حقیقت کھل جاتی ہے کہ اس روایت کی سند میں ایسے راوی ہیں جونہ صرف یہ کہ غیر مستند ہیں اور مجہول یعنی نا معلوم ہیں بلکہ علم روایت حدیث کے حوالے سے بہت عیب دار ہیں۔ان بنیادوں پر یہ روایت اپنا استناد ، اعتماد، مقام اور حیثیت کھو دیتی ہے۔چنانچہ کسی نے اسے موضوع قرار دیا ہو یانہ ، عملاً یہ روایت موضوع کے مقام پر ہے۔علاوہ ازیں یہ موضوع کیوں ہے اور یہ کہ رسول اللہ صلی علیم نے ایسا ارشاد فرمایا تھا یا نہیں ؟ اس کی وضاحت اگلی سطروں میں بھی ملاحظہ فرمائیں۔غیر مستند ہونے کے مزید واضح ثبوت اس روایت کے موضوع ہونے کا واضح اور کھلا کھلا ثبوت یہ ہے کہ یہ قرآن کریم کی تعلیم اور رسول اللہ صلی نیلم کے ارشادات اور آپ کے پاک اُسوے کے خلاف اور اس سے متصادم ہے۔امر واقع یہ ہے کہ نبی کریم صلی ا ظلم کی سکتے کی گلیوں میں مسلسل تیرہ سال توہین و تنقیص ہوتی رہی اور صحابہ کی تذلیل کی جاتی رہی۔اسی طرح مدینے کے کوچے بھی آپ، ازواج مطہرات اور صحابہ کی توہین و تحقیر کے گواہ ہیں۔مگر تاریخ شاہد ہے کہ کبھی ایسا کرنے والے کسی کو نہ قتل کیا گیانہ کوڑے مارے گئے۔یہ ایسی حقیقت ہے کہ جس سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ یہ روایت عملاً رسول اللہ صلی ال یکم اور صحابہ کی زندگیوں میں رونما اور ہونے والے بکثرت واقعات کے کلیۂ خلاف ہے۔دوسرا بین ثبوت یہ بھی ہے کہ یہ حضرت علیؓ سے روایت کی گئی ہے۔لیکن حضرت علیؓ کا اپنا عمل کلیہ اس کے خلاف ہے۔آپ نے کبھی صحابی کو سب کرنے والے کو کوڑے نہیں