توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 144
توہین رسالت کی سزا { 144 } قتل نہیں ہے الْكَبَابِرِ الَّتِي قَالَ اللهُ تَعَالَى إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَابِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ ( جلد 2، صفحہ 174) کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو گالی دینا ان بڑے گناہوں میں سے ہے جن کی بابت اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے کہ جن بڑے گناہوں سے تمہیں روکا جاتا ہے ان سے باز آجاؤ۔( یہ سورۃ النساء کی آیت 32 کا ایک جزء ہے) سوال یہ ہے کہ اگر صحابہ کو گالی دینے سے انسان گناہ کبیرہ کا مجرم ٹھہرتا ہے تو اس میں سے دو خلفائے راشدین حضرت عثمانؓ اور حضرت علی اور دیگر تمام صحابہ کیوں مستثنیٰ ہیں۔صرف حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو کیوں اختیار کیا گیا ہے اور باقی سب صحابہ کو چھوڑ دیا گیا ہے۔اگر ایک اصول بنایا گیا تھا تو وہ سب پر یکساں اطلاق پانا چاہئے تھا۔یہ کیسا شرعی اصول ہے کہ دو خلفاء پر تو لا گو ہوتا ہے، مگر دیگر دو پر نہیں۔دیگر صحابہ پر بھی نہیں۔پھر یہ بھی تو ہے کہ اگر دو صحابہ کو گالی دینا کبیرہ گناہ ہے تو اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی کم پر سب و شتم کو خود آپ کی طرف سے اکبر الکبائر قرار دیا ہو تا۔مگر سب جانتے ہیں شارع علی ای کم نے ایسانہ کہانہ کیا۔دوسرے یہ کہ اگر یہ مسئلہ اتنا ہی سنجیدہ تھا کہ صحابہ کو گالی دینے سے انسان گناہِ کبیرہ کا مجرم ٹھہرتا ہے اور صحابہ کو گالی دینے والے کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اسے کوڑے مارو تو اہل تشیع تو بلا استثناء اس کی زد میں آتے ہیں۔انہیں گزشتہ پندرہ صدیوں میں کیوں کسی حکومت نے کسی بھی دور میں توہین صحابہ کی وجہ سے انفرادی طور پر باجماعت کوڑوں کی سزا نہیں سنائی۔ان کے دین کی فروعات میں تبرا ایک ایسا بنیادی رکن ہے کہ جس کی وجہ سے وہ تمام صحابہ کو بالعموم شیخین جو صحابہ کے بھی سردار اور پہلے دو راشد خلیفے ہیں، ان کی غیر محدود اور غیر منقطع تسلسل کے ساتھ توہین و تحقیر کرتے چلے جاتے ہیں۔اس روایت کے پہلے حصے پر پر تشد د رویے اختیار کرنے والے اس کے دوسرے حصے کو کیوں ترک کر دیتے ہیں ؟ اور