توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 106 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 106

توہین رسالت کی سزا { 106 } قتل نہیں ہے حضرت ابو بکر کو علم تھا۔سازشی اڈوں کو جلانے کی یہ کارروائی بعینہ اسی طرح کی ہوگی جس طرح رسول اللہ صلی الیم نے غزوہ تبوک کے لئے روانگی سے قبل مدینہ میں سویلم یہودی کے گھر کو جلو ایا تھا جہاں آپ ، صحابہ، صحابیات اور اسلام کے خلاف سازشیں تیار کی جاتی تھیں۔واللہ اعلم اس زیر بحث خود تراشیدہ روایت کے مطابق حضرت عمرؓ کے کہنے پر حضرت ابو بکر نے حضرت خالد کو کوئی تنبیہہ نہیں کی۔ورنہ ایک خلافِ شریعت عمل پر کسی بہانے سے تنبیہ نہ کرنا تو نعوذ باللہ واضح طور پر خلیفتہ الرسول کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے اور ایسی کمزوری منصب خلافت کے منافی ہے۔خلیفۃ الرسول حضرت ابو بکر تو دین کی حفاظت کے لئے وہ آہنی عزم و ارادے والے مرد حق تھے کہ انتہائی کمزور اور نازک حالات میں بھی بپھرے ہوئے باغیوں کے سامنے ایک چٹان بن کر کھڑے ہو گئے تھے۔ایسے قوی الارادہ شخص کے بارے میں یہ بات تراش لینا کہ آپ ایک خلاف شریعت عمل پر ایک ذرہ بھر بھی سرزنش نہیں کرتے ، ایک انتہائی ظالمانہ خیال ہے۔پس یا یہ واقعہ دراصل کچھ اور ہے جس کی تفصیل روایات میں مذکور نہیں ہے یا یہ روایت جعلی اور وضعی ہے۔اس روایت کو وضعی اور جعلی تسلیم کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی یم نے زندہ آگ میں جلنے یا جلانے ، دونوں ہی سے منع فرمایا ہے۔جلانے والی روایات کے بارے میں تفصیلی وضاحت پہلے گزر چکی ہے۔مگر اس پر درج ذیل واقعے سے بھی اصولی طور پر روشنی پڑتی ہے۔وہ واقعہ یوں ہے کہ ربیع الآخر 9ھ کو آنحضرت صلی للی تم کو خبر ملی کہ اہل حبشہ میں سے کچھ لوگ جدے کے ساحل پر اترے ہیں۔آپ نے حضرت علقمہ کو تین سو افراد کی کمان دے کر ان کی طرف بھجوایا۔حبشیوں کو ان کی آمد کا علم ہوا تو وہ اپنی کشتیوں پر سوار ہو کر سمندر میں فرار ہو گئے۔