توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 105
توہین رسالت کی سزا { 105 قتل نہیں ہے اسی طرح حضرت ابو بکر کے حوالے سے جو روایت ہے وہ بھی بتارہی ہے کہ وہ لوگ باغی تھے۔آپ کا دور انہی بڑی بڑی بغاوتوں کے قلع قمع کا دور تھا۔پس یہ تو واضح ہے کہ یہ لوگ آنحضرت اصلی تعلیم پر سب و شتم کرنے والے نہیں تھے بلکہ مرتد ہو کر بغاوت پر اترے ہوئے باغی تھے اور مدینے کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کا ارادہ رکھنے والے کھلے کھلے محارب تھے۔اس لئے ان کو لڑائی کے ماحول میں قتل کرنا ہر جنگی اصول کے عین مطابق تھا۔باقی رہا حضرت ابو بکر کا حضرت خالد کو سزا نہ دینا یا کم از کم تنبیہہ نہ کرنا تو یہ یقیناً اس وجہ سے نہ تھا کہ آپؐ مرتدوں کو جلانے کے قائل تھے یا ان کے قتل کے قائل تھے۔بلکہ اس روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپؐ کو صورتحال کا پوری طرح علم تھا کہ جن کو حضرت خالد نے قتل کیا ہے وہ باغی مرتد تھے۔بغاوت کو کچلنے کے لئے دنیا کے ہر ملک اور قوم کے اس بنیادی قانون کے مطابق یہ ضروری بلکہ لازمی تھا۔نیز حضرت ابو بکر کا یہ کہنا کہ میں اللہ کی تلوار کو نیام میں نہیں کر سکتا، اس وجہ سے تھا کہ آپ کو واقعات کی حقیقت کا علم تھا۔حضرت خالد آپ کے حکم سے بغاوتوں کو کچلنے اور باغیوں کی سرکوبی کے لئے مامور تھے اور انتہائی کامیابی کے ساتھ یہ فریضہ سر انجام دے رہے تھے۔گزشتہ صفحات میں بیان شدہ حضرت ابو ہریرۃ والی روایت کے مطابق زندہ انسانوں کو آگ میں جلانا بنیادی طور پر شریعت کے خلاف ہے۔لہذا حضرت ابو بکر ایسی کارروائی کی پشت پناہی نہیں کر سکتے تھے جس کے نہ کرنے کی رسول اللہ صلی الم نے خود وضاحت فرمائی تھی۔روایات کے تمام مناظر کے مطابق حضرت خالد نے کسی دشمن کو زندہ نہیں جلایا۔کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں ہو تا کہ آپ نے زندوں کو جلایا تھا۔غالب امکان ہے کہ آپ نے اگر جلانے کی ایسی کوئی کارروائی کی تھی تو اس میں باغیوں کو نہیں بلکہ ان کے سازشی اڈوں کو جلایا ہو گا جس کا