توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 107
توہین رسالت کی سزا { 107 } قتل نہیں ہے حضرت علقمہ نے ایک جزیرے تک ان کا پیچھا کیا۔حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں : ” میں بھی اس مہم میں اس لشکر کے ساتھ تھا۔جب یہ مہم ختم ہو گئی تو بعض افراد نے واپس جانے کی اجازت طلب کی۔ان میں حضرت عبد اللہ بن حذافہ اسہمی بھی تھے۔حضرت علقمہ نے ان کو ان واپس جانے والوں پر امیر مقرر کر دیا۔حضرت عبد اللہ بن حذافہ کی طبیعت میں مزاح تھا۔راستے میں ایک جگہ انہوں نے کھانا پکانے کے لئے آگ جلائی۔حضرت عبد اللہ بن حذافہ کو مذاق سوجھا۔آپ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ” کیا تم پر میری اطاعت فرض نہیں ؟ “ انہوں نے جواب دیا : کیوں نہیں۔“ آپ نے کہا: ”پھر میں جو حکم دوں گا تم پر اس کا بجالا نا فرض ہو گا۔“ انہوں نے کہا: ”بے شک۔“ آپ نے کہا: ”پھر میں تم پر اپنے اس حق اطاعت کی وجہ سے حکم دیتا ہوں کہ اس آگ میں کو دجاؤ۔“ اس حکم کے بعد آپ نے دیکھا کہ ان میں سے بعض اس آگ میں کودنے کے لئے تیار ہو رہے ہیں اور ان کا عزم بتاتا ہے کہ وہ اس میں عملا کو دبھی جائیں گے۔چنانچہ آپ نے انہیں روکا اور کہا: ” میں تو تم لوگوں سے مذاق کر رہا تھا۔66 جب یہ لوگ مدینہ پہنچے تو یہ تمام واقعہ آنحضرت صلی ال یکم کی خدمت میں ذکر کیا گیا۔آپ نے فرمایا: "مَنْ أَمَرَكُمْ مِنْهُمْ بِمَعْصِيَّةٍ فَلَا تُطِيعُوه “ کہ اگر کوئی ایسا حکم دے جس سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی لازم آتی ہو تو اس کی اطاعت نہ کرو۔(ابن ماجہ کتاب الجہاد باب لا طاعۃ فی معصیۃ اللہ ور قانی سرید عالقمة الى طائفة من الحبث هو ابن سعد سریہ علقمہ بن نجيز الى الحبشة) بخاری میں یہی واقعہ کتاب المغازی میں سریۃ عبد اللہ بن حذافہ السہمی و علقمہ کے باب میں بھی بیان کیا گیا ہے۔وہاں لکھا ہے کہ جب یہ واقعہ آنحضرت صلی علیکم کی خدمت میں پیش ہوا تو آپ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا: " لَوْ دَخَلُوهَا مَا خَرَجُوا مِنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقَيَامَةِ الطَّاعَةُ فِي