توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 104 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 104

توہین رسالت کی سزا 11 مرتد سوزی { 104 وو قتل نہیں ہے ایک روایت یہ بھی پیش کی جاتی ہے کہ " مصنف عبد الرزاق روایت کرتے ہیں: خالد بن ولید نے کچھ مرتدوں کو آگ میں جلا دیا۔حضرت عمرؓ نے عرض کی اے ابو بکر ! آپ نے خالد کو کھلا چھوڑ دیا۔حضرت ابو بکڑ نے فرمایا میں اللہ کی تلوار کو نیام میں نہیں ڈال سکتا۔“( مصنف جلد پنجم حدیث 9412) جہانتک اس روایت کا تعلق ہے، فتح الباری شرح صحیح بخاری کتاب الجہاد والسير باب لا یعذب بعذاب اللہ میں بھی ایک بحث کے سلسلے میں درج کی گئی ہے۔مگر وہاں صرف مرتدوں کو جلانے کا ذکر ہے ، باقی تفصیلات نہیں ہیں۔اسی روایت کی شرح میں حضرت ابو بکر منکا با غیوں کو جلانا بھی مذکور ہے۔جہانتک حضرت ابو بکر کے باغیوں کو جلانے کا ذکر ہے تو یہ قصہ سرے سے ہی جھوٹا ہے۔فتح الباری میں یہ روایت کسی سند اور مآخذ کے ذکر کے بغیر درج ہے۔نیز یہ کہ ایسے وضعی قصوں کا کسی صحیح روایت اور احادیث کے کسی مستند مجموعے میں ذکر نہیں ملتا جو اُن کے غیر مستند بلکہ وضعی ہونے کا قطعی ثبوت ہے۔لیکن بفرض محال ایک لمحہ کے لئے اگر ان روایات کو درست بھی تسلیم کر لیا جائے تو اول تو ان روایات سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ ان میں جن کی بات ہو رہی ہے وہ مرتد تھے۔ان کے ذکر کے ساتھ رسول اللہ صلی اللی کم پر سب و شتم کا کوئی ذکر نہیں ہے۔یعنی یہ ذکر نہیں ہے کہ انہوں نے آپ کو گالی گلوچ کی اور آپ کی کوئی توہین و تنقیص کی۔ہاں یہ واضح ہے کہ بغاوت کی تھی جس کو کچلنے کے لئے حضرت ابو بکر کی طرف سے حضرت خالد امور تھے۔