توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 103
توہین رسالت کی سزا 103 { قتل نہیں ہے لگام بیان ہے جو آنحضرت صلی الم کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا کہ جس سے آپ کسی کو اپنا دین بدل کر اسلام میں آنے سے روک رہے ہوں۔یہ درست ہے کہ بعض نے ”دینہ“ سے مراد اسلام لیا ہے یعنی جو اسلام چھوڑ کر کوئی اور دین اختیار کرے اسے قتل کر دو۔ظاہر ہے کہ یہ شرح گزشتہ صفحات میں مذکور آیات قرآنیہ سے کھلی کھلی متصادم ہے۔نیز اسوۃ و سنت رسول صلی للی نام سے بھی مخالف ہے۔آپ نے کبھی کسی کے قتل کا حکم صرف اس وجہ سے نہیں دیا کہ وہ دین اسلام سے مرتد ہو گیا تھا۔خلفائے راشدین کی زندگیاں بھی اسی قرآنی تعلیم اور اسوہ رسول صلی اللہ ہلم کے عین مطابق تھیں۔انہوں نے بھی کسی کو اسلام سے نکل جانے کی وجہ سے قتل کیا نہ اس کے قتل کا حکم دیا۔پس یہ تشریح درست نہیں ہے کہ’دینہ“ سے مراد دین اسلام ہے۔حضرت امام بخاری نے یہ روایت درج کی ہے مگر ساتھ آیات قرآنیہ بھی رکھ دی ہیں جو اس کو رد کرتی ہیں۔اسی طرح مذکورہ بالا دیگر قطعی حقائق بھی رہنمائی کرتے ہیں کہ یہ روایت قابل قبول نہیں ہے۔*****