تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 853
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 20 نومبر 1987ء ایک سفید فام خاتون نے بیعت کی۔اور ایک اور دلچسپ واقعہ وہاں یہ ہوا کہ چونکہ واشنگٹن میں ایسے آثار ظاہر ہوئے تھے کہ جس سے معلوم ہوتا تھا کہ مجھے پر حملے کی ایک سازش تیار کی گئی ہے۔اس لئے اگر چہ پہلے بھی جماعت کی طرف سے بہت اچھے انتظامات تھے۔اور امیر صاحب یونائیٹڈ سٹیٹس (United States) اور نائب امیر، دونوں نے مل کے سیکیورٹی کی طرف بڑی توجہ دی تھی۔لیکن اس واقعہ کے بعد وہاں شکاگو کی جماعت نے یہ فیصلہ کیا کہ باقاعدہ سیکیورٹی کی جو ایجنسیز (Agencies) ہیں، ان کو بھی حفاظت کے لئے کرائے پر لینا چاہئے۔اور جو بھی خرچ ہو لیکن بہر حال اس قسم کے ہم کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتے کہ دوبارہ ایسی شرارت کے متعلق کوئی سوچ سکے۔چنانچہ وہاں کی ایک تجربہ کار سیکیورٹی کی ایجنسی، جس کے افسر پولیس کے ایک پرانے تجربہ کار افسر تھے ، ان کو مقرر کیا ہوا تھا۔اور چار دن کا دورہ تھا شکا گو گا۔چلنے سے ایک رات پہلے وہ پہنچے مسجد میں، انہوں نے کہا کہ میں بیعت کرنی چاہتا ہوں۔آپ مجھے سیکیورٹی افسر کے طور پر دیکھ رہے تھے کہ گویا میں ہوں یا نہ ہوں، میں اپنے کام میں لگا ہوا ہوں۔لیکن میں اس نظر سے دیکھ رہا تھا کہ یہ کیا باتیں ہیں؟ اور واقعہ اس طرف سچائی ہے کہ نہیں؟ اور دو دن کے اندر اندر میرے دل کی حالت بدل گئی ہے۔اور میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ جماعت احمد یہ ، جس اسلام کو پیش کر رہی ہے، وہی سچا اسلام ہے۔اور یہ اسلام ایسا نہیں، جس سے میں باہر رہ سکوں۔اس لئے مجھے شامل کیا جائے۔اور پھر اسی رات کو وہ ہمارے ساتھ نماز عشاء میں بھی شامل ہوئے اور اللہ کے فضل سے بڑی جلدی جلدی پاک تبدیلیاں پیدا ہوتی ہوئی ، ہم نے لوگوں میں دیکھیں۔اور بہت سے نیک اثرات ہیں، جو انشاء اللہ لمبے عرصے تک ایک رحمت کے سائے کے طور پر جماعت امریکہ پر رہیں گے۔اور میں امید رکھتا ہوں کہ جن لوگوں سے واسطے پڑے ہیں اور تعلقات وسیع ہوئے ہیں، ان لوگوں میں جماعت بھی اپنی دلچسپی کو جاری رکھے گی۔اور ان میں بہت سے انشاء اللہ تعالیٰ اچھے پھل ہیں، جو تیار ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی جھولی میں آنے والے ہیں۔وہ اس سے باہر جانہیں سکتے۔کیونکہ ملاقاتوں کے دوران بھی اور عمومی سوال و جواب کے رجحانات کو دیکھتے ہوئے، میں نے یہ اندازہ لگایا کہ جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں، امریکن عوام کے دل میں سعادت ابھی تک زندہ ہے، مادہ پرستی کے باوجود۔باوجود اس کے کہ وہ ایک ایسے نظام کے غلام ہیں، جس کے چنگل میں پھنسے ہوئے ، جدھر وہ زنجیروں میں باندھ کر لے جارہا ہے، اس طرف چلے جارہے ہیں۔لیکن ان کے دل میں کچھ سچائی کی محبت موجود ہے، ابھی تک۔اور آزادی کی محبت بھی موجود ہے۔چاہتے بھی ہیں کہ اس قسم کی مصیبتوں سے ان کو نجات ملے۔اپنے 853