تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 852
خطبہ جمعہ فرمود و 20 نومبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد ہفتم کہلاسکتی ہے۔اور بڑی گہری دلچسپی انہوں نے لی اور اس کے بعد جب باہر آیا ملاقاتیں ہوئی تو وہاں بھی دوستوں نے بڑی محبت کے ساتھ ، بڑے اچھے خیالات کا اظہار فرمایا۔اس وقت تک کھڑے رہے، وہیں رہے، جب تک میں واپس نہیں آ گیا۔اور ملاقات کے بغیر باہر نہیں گئے ، الا ماشاء اللہ۔اور واپسی کے وقت مجھے پتالگا، نیویارک میں ایک خاتون ، جو اس مجلس میں آئیں ہوئیں تھیں، امریکن، انہوں نے بیعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وہ چاہتی ہیں کہ خود آئیں۔چنانچہ جب بیعت کی، ان سے میں نے پوچھا کہ کیا خاص وجہ تھی، آپ کی بیعت کی؟ تو انہوں نے کہا: وہ واشنگٹن کی مجلس میں میں شامل ہوئی تھی اور اس میں جو آپ کے اوپر خاص رنگ میں حملے کئے گئے تھے اور کوشش کی گئی تھی کہ آپ کے اثر کو مٹایا جائے ، جس طرح آپ نے احمدیت کے دفاع میں جواب دیئے، مجھے اسی وقت یقین ہو گیا تھا کہ آپ بچے ہیں اور یہ لوگ جھوٹے ہیں۔اور میرے دل میں میسیج کی طرح گڑ گئی تھی، یہ بات کہ احمدیت کچی ہے۔پھر کچھ وقت لگا، مجھے، کیونکہ میرا معاشرہ مختلف ہے اور اچانک مذہب بدلنا، پھر اپنی عادات بدلنا، خیالات بدلنا ، یعنی طرز رہائش بدلنا، یہ آسان کام نہیں۔لیکن اب مجھے توفیق مل گئی ہے۔اور وہ پہلی مجلس میں ہی برقع پہن کے آئیں تھیں۔سفید نام امریکن تمھیں لیکن ان کے اندر ایک اور خوشی کا پہلو یہ تھا کہ ریڈ انڈین بلڈ بھی موجود تھا، جس کی ہمیں ضرورت ہے، تعارف کی۔اور ریڈ انڈین ان کے رشتہ داریوں کے تعلقات بھی ابھی تک قائم تھے۔تو مجھے تو بڑی تلاش تھی، ایسے لوگوں کی، جن کے ذریعے ہم ریڈ انڈینز (Red Indians) میں بھی داخل ہو سکیں۔تو اس پہلو سے میرے نزدیک اس کی بڑی اہمیت تھی۔لیکن مجھے بتایا یہ گیا کہ جب انہوں نے فیصلہ کیا ، دوسرے دن بیعت کرنی ہے تو ساری رات بیٹھ کے برقع سیا اور برقع پہن کر آئیں۔تو یہ اچانک تبدیلیاں ہے، یہ انسان کے بس کی بات ہی نہیں۔یہ خدا تعالیٰ کے تصرف میں جو دل ہیں، اس کے کرشمے ہیں۔اور وہ دل بدلتا ہے اور اچانک اس طرح کا یا پلٹ دیتا ہے کہ کس معاشرے سے اٹھی بچی ایک اور نوجوان لڑکی ، جب وہ بیعت کی، اس نے اور میں نے کہا: آپ دستخط کر دیں اور دعا کر لیتے ہیں اکٹھے۔تو اس کے بعد وہ اتنی زیادہ جذباتی ہو گئیں تھیں کہ جو خواتین ان کو ساتھ لے کر آئیں تھیں، ان کے ساتھ ، ایک ایک کے ساتھ گلے مل مل کے روتی تھی کہ الحمد للہ ! آج میری قسمت جاگ گئی، آج مجھے خدا نے یہ دن دکھایا اور بے انتہا خوشی کے جذبات اور آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی تھی ، ان کی۔تو یہ ایسے پاکیزہ پھل، خدا جو عطا فرماتا ہے، اس کے بے انتہا مواقع موجود ہیں۔اور ایک جگہ نہیں، کئی جگہ ایسے واقعات ہوئے کہ ایک مجلس کے بعد ہی شامل ہونے والوں میں سے کسی نے اظہار کیا کہ ہم بیعت کرنا چاہتے ہیں۔ایک ہندو نے بھی بیعت کی خدا کے فضل سے۔ایک اور جگہ شکاگو میں بھی 852