تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 846
خطبہ جمعہ فرمودہ 20 نومبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم نظام کا۔اور یہ جو نہایت ہی ذلیل قسم کا مالیاتی نظام، سودی نظام اور مادہ پرستی کا نظام ان کے اوپر نافذ ہو چکا ہے، اس سے وہ نکل نہیں سکتے۔اب بالکل بے اختیار ہو چکے ہیں، ان کے ہاتھوں میں۔اور چند بڑے بڑے ایسے Cartels ہیں، چند ایسے بڑے بڑے جتھے ہیں، اموال کے اوپر قبضہ کرنے والے، جن کے قبضے میں سارے امریکہ کی ہر چیز آچکی ہے۔ان کا تمدن، ان کا معاشرہ، ان کا مذہب، ان کی سیاست، ان کا عام رہن سہن، بولنے کے انداز، رہنے کے انداز، یہ تمام کے تمام اس وقت چوٹی کے چند اہم جتھوں کے قبضے میں ہے۔جو Sources پر، یعنی جو بھی قوتوں کے منبع ہیں، ان پر قابض ہو چکے ہیں۔اور اپنے مفاد کو قائم رکھنے اور آگے بڑھانے کے لئے وہ ہر قسم کی بدی امریکن عوام کو دیتے ہیں۔اور ان کے مزاج کو بگاڑتے، ان کے مزاج کو بگاڑنے کے بعد بگڑی ہوئی چیزیں پھر ان کو مہیا کرنے کی ذمہ داری لیتے گویا کہ آخری چیز پیسہ ہے۔اور وہ پیسہ، چونکہ چند لوگوں کے قبضے میں ہے، اس لئے پیسے کی خاطر وہ قوم کی ہر چیز کو قربان کر سکتے ہیں، ان کے مزاج کو ، ان کے خیالات کو ، ان کی سیاست کو، ان کے بین الاقوامی تعلقات کو تو بہت ہی مظلوم حالت ہے۔اس قوم کی اس پہلو سے اور جب بھی اس مسئلے کو چھیڑا جائے تو فوراً محسوس ہوتا ہے کہ اس کا ایک مبہم سا احساس تو کم از کم ہر دل میں موجود ہے۔لیکن بعض لوگوں میں باشعور احساس ہے، شدت سے اس کے خلاف رد عمل پیدا ہورہا ہے۔لیکن وہ نہیں جانتے کہ وہ کس طرح اس مصیبت سے آزاد ہو سکتے ہیں۔پھر بین الاقوامی سیاست نے بھی وہاں رخنے ڈالے ہوئے ہیں۔اور بعض خرابیوں کو بڑھا رہے ہیں۔مثلاً جن کو کالا امریکن کہا جاتا ہے، ہم ان کو Afro - American کہتے ہیں۔کیونکہ Afro-American لفظ میں کوئی تذلیل نہیں۔لیکن بدبختی سے کالا امریکن کے اندر ایک تذلیل کا پہلو داخل ہو چکا ہے۔اس لئے میں ہمیشہ اس اصطلاح سے گریز کرتا رہا اور جماعت کو بھی یہی کہتا رہا کہ اس اصطلاح سے اس لئے گریز کریں کہ Black Americans لفظ میں ایک تذلیل کا، جس طرح پہلے زمانوں میں Nigger کے لفظ میں تذلیل کا پہلو پایا جاتا تھا، اس میں بھی داخل ہو چکا ہے۔اور ہمیں Afro-American کہنا چاہئے۔تو African Americans میں بھی بین الاقوامی سازشیں کام کر رہی ہیں۔اور جو سینکڑوں سال کی محرومی کا احساس ہے، اس کو مشتعل کر کے خود ان کو اپنے مفاد کے خلاف غلط رستوں پر ڈالا جا رہا ہے۔اور سیاہ اور سفید کی تفریق کو اس رنگ میں ابھارا جا رہا ہے کہ اس کے نتیجے میں سیاہ فام اپنے حقوق لینے کی بجائے پہلے سے بھی زیادہ بدتر حال تک پہنچ جائیں۔اور عملاً اشتعال انگیزی کے لئے غیر تو میں اور غیر طاقتیں اپنے روپے کے بل بوتے پر ان کو استعمال کر رہی ہیں۔پھر مذہب کے 846