تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 844 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 844

خطبہ جمعہ فرمودہ 20 نومبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد ہفتم اول: وہ اسلام، جوان کے پروپیگنڈا میڈیا، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اخبارات ان کے سامنے پیش کرتے ہیں۔اور وہ چونکہ ایک خاص نفرت کے زاویے سے تصویر پیش کی جاتی ہے، جس میں سیاسی مصالح شامل ہو چکے ہیں اور بہت حد تک عمداً مکر وہ صورت میں اسلام کو پیش کیا جاتا ہے۔اس لئے اس زاویے سے جب اسلام کو دیکھا جائے تو واقعی ایک نہایت ہی مکروہ تصویر ابھرتی ہے۔اس لئے جو عوام الناس ہیں، ان کا اس میں کوئی قصور نہیں۔جب آپ ایک بدصورت نقشہ کھینچیں گے تو طبیعت طبعا اس سے متنفر ہوگی اور دور بھاگے گی۔دوسرا: جو بعض مسلمان ممالک کے جارحانہ اقدامات ہیں اور ان کے خاص ظالمانہ برتاؤ خود اپنے ممالک کے بسنے والوں سے ہیں، اس کا بہت برا اثر ہے۔اور جب بھی مجالس لگتی ہیں، ان میں یہ سوال ضرور اٹھتے ہیں۔بہر حال یہ ایک الگ لمبی روئیداد ہے، جس کی تفصیل میں اس وقت جانے کی گنجائش نہیں۔مگر جہاں جہاں بھی مجالس لگیں، وہاں ان مسائل پر سوال اٹھتے رہے اور جماعت کی طرف سے جو صحیح اسلام کی تصویر ہے، اسے پیش کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔خود اسی جگہ یعنی Portland میں بھی جہاں کی بات ہو رہی تھی ، وہاں سے ہمارے احمدی دوستوں نے بعض زبانی تاثر بھی بیان کیا ، پھر ان کے تحریری خطوط بھی بھجوائے ، جو لوگ شامل ہوئے تھے تو ان میں سے ایک صاحب، جنہوں نے اسلام کی Violence کے او پر سوال کیا تھا۔وہاں کے چوٹی کے قابل سرجنز (Surgeons) میں ان کا شمار ہے اور دنیا میں شہرت رکھنے والے دوست ہیں۔ان کو جب میں نے اس کا جواب دیا تفصیل سے تو اس کے بعد ان کا یہ تاثر تھا، انہوں نے اپنے دوست کو بتایا کہ میں تو اپنی شام کی محفل اور کلب قربان کر کے صرف تمہاری خاطر آیا تھا۔اور میں تیار ہو کے آیا تھا کہ ایک دو گھنٹے بہت ہی بور ہوں گا اور بڑی مشکل سے وقت گزرے۔لیکن ایسی گا مجلس میں آکر میں نے محسوس کیا کہ اگر یہ مجلس ہے تو میں اس کے لئے ہر جگہ جا کر اپنا وقت خرچ کرنے کے لئے شوق سے تیار ہوں گا۔کیونکہ اسلام کے متعلق اور بعض دیگر امور میں ایسی ایسی معلومات حاصل ہوئیں کہ اس سے پہلے ہمارے تصور میں بھی نہیں تھا۔پھر اسی طرح ایک اور دوست، اسی جگہ، وہ بھی ایک بہت قابل ڈاکٹر ہیں اور عملاً دہریہ، مذہب سے متنفر تھے۔انہوں نے ایک سوال کیا اور سوال کے جواب کے بعد ان کا تاثر یہ تھا کہ دوسرے دن وہ خود اپنے دوست کے پاس پہنچے اور کہا کہ میں آج تک ساری زندگی مذہب سے متنفر رہا ہوں، کوئی کبھی دلچسپی نہیں لی۔لیکن صرف ایک سوال کرنے کے نتیجے میں جب اسلامک نظریہ مجھے معلوم ہوا ہے تو مجھ میں اتنی دلچسپی پیدا ہوگئی ہے 844