تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 810
خطبہ جمعہ فرموده 130اکتوبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم محض اس بات پر تسلی نہ پایا کریں کہ آپ میں سے امیر بڑے بڑے چندے دے کر ملک کے عمومی بجٹ کو بڑھا رہے ہیں۔بلکہ یہ دیکھا کریں کہ کتنے غریب یا دل کے غریب ایسے ہیں، جو تو فیق ہونے کے باوجود اس چندے میں شامل نہیں ہو سکے۔ان کی تعداد بڑھانے کی طرف توجہ کریں۔اس سے آپ کو نیک آدمیوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کا موقع ملے گا۔کیونکہ چندہ دینے والوں میں نیکی پیدا ہوتی ہے اور جماعت کا انحصار نیکی پر ہے۔اگر ہم زیادہ نیک آدمی بنا سکتے ہیں تو اتنی ہی زیادہ جماعت ترقی کرے گی۔اس پہلو سے اب اپنے کمزوروں پر رحم کریں اور ان کے لئے باقاعدہ سارا سال کوشش کرتے رہا کریں کہ ان کی تعداد میں اضافہ ہو۔یہ رپورٹ مجھے نہیں ملتی اور اس سے مجھے اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس پہلو سے سقم ہے۔کیونکہ جماعتوں میں رپورٹ بھیجنے کا رجحان یہ ہوتا ہے کہ جس چیز میں وہ کوئی قابل فخر کام کریں، اس کو اور Over Emphasize کر دیتے ہیں۔یعنی زیادہ بڑھا کر بیان کرتے ہیں، بڑھا کر واقعات کا نہیں بلکہ نمایاں رنگ میں، میں کہنا چاہتا ہوں تا کہ میری نظر اس پر پڑے اور میرا دل خوش ہو اور ان کی نیت نیک ہوتی ہے تا کہ ان کے لئے دعادل سے نکلے کہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔جو پہلو تشنہ رہ گئے ہوں، ان کا ذکر ہی نہیں کرتے تا کہ دماغ میں یہ خیال ہی نہ جائے کہ کوئی خلاء ہے اور وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کس طرح میری نظر سے ان کی کوئی بات بھی اوجھل نہیں ہو سکتی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مزاج ہی ایسا عطا فرمایا ہوا ہے کہ میں سارے پہلوؤں پر نظر ڈال کر رپورٹ دیکھتا ہوں۔اگر بعض پہلوؤں کا ذکر نہ ہو تو مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ اس پہلو میں کام ہی نہیں ہوا ، ورنہ وہ ذکر کرتے۔اور میں نے نصیحت کی تھی گزشتہ سال بھی کہ آپ اپنے ہاتھ سے لکھ دیا کریں کہ ہم نے اس معاملے میں اب تک کوئی کام نہیں کیا۔اس میں برکت ہے۔یہ قول سدید ہے۔اس سے آپ کو ایک کام کی طرف بار بار توجہ پیدا ہوگی اور وہ خلاء بھرنا شروع ہو جائے گا۔جب آپ اپنی کمزوری چھپانے کے لئے ایک جگہ سے چھلانگ لگا کر دوسری جگہ پہنچتے ہیں اور بیچ میں ایک خلاء پیدا کر دیتے ہیں تو جو مقصد ہے، وہ تو پورا نہیں ہوا۔نہ مجھے دھوکہ دیا جا سکا، نہ خدا کوکوئی دے سکتا ہے۔تو بے مقصد ایسی غلطی کر رہے ہیں، جس کا آپ کو اپنا نقصان ہے۔آپ اگر یہ لکھتے اور آگے جا کر تو ایسی ، مجھے Brief کرنا پڑے گا، بیچ میں خلاء آ رہا ہے تو ہم بدقسمتی سے اس خلاء کو پر نہیں کر سکے۔ہر رپورٹ میں اگر یہ لکھا جائے تو انسانی ضمیر آخر کچوکے دیتا ہے، توجہ دلاتا ہے۔پھر انسان کوشش کرتا ہے کہ اس خلاء کوکسی رنگ میں پر کرے۔اور اس کے نتیجے میں ترقی ہوتی ہے۔تبھی خدا تعالٰی نے فلاح کی راہ یہی بتائی ہے کہ قول سدید اختیار کرو۔810