تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 790
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 23اکتوبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم سکے گا۔جو میرے ہو چکے ہیں، ان پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا۔اس سے بھی پتا چلتاہے کہ حقیقی نیکی کے اوپر بدی غالب آہی نہیں سکتی۔بلکہ حقیقی نیکی ہے، جو بدیوں کو ختم کرتی ہے۔اس لئے اگر ہمارے اندر کمزوریاں اور خلا ہیں اور ہماری نیکیوں کے خول ہیں، جن کے اندررس کوئی نہیں، ان کے اندر حقیقت میں کوئی ٹھوس وجود نہیں ہے بلکہ چھلکے ہیں تو پھر ایسے چھلکوں کو تو بدیاں ضرور کھا جائیں گی۔سب سے پہلے اپنے نفس کا جائزہ لینا ضروری ہے، اپنے ماحول کا جائزہ لینا ضروری ہے۔میاں بیوی دونوں، جن کی اولاد ہے، جو فکر کرتے ہیں کہ اولاد کا کیا بنے گا؟ ان کو پہلے اپنی فکر کرنی چاہئے ، اپنے تعلقات پہلے اسلامی رنگ میں درست کرنے چاہئیں۔اپنے ماحول کو درست کرنا چاہئے ، اپنے رجحانات کو درست رکھنا چاہئے۔ہر بات میں دین کو فضیلت دینے کی عادت ڈالنی چاہئے۔اگر سارا دن گھر کے ماحول میں دنیا کی لذتوں کی باتیں ہورہی ہوں، یہ ذکر چل رہے ہوں کہ فلاں کے پاس فلاں چیز آگئی ہے اور ہم نے یہ چیز بھی لینی ہے، اس طرح ہم مکان بنائیں گے، اس طرح ہم یہ کریں گے، اس طرح وہ کریں گے۔اس طرح اولاد کو اچھی تعلیم دلوائیں گے اور وہ دنیا میں بڑے آدمی بنیں گے۔اگر ذکر ہی یہ چلتے ہوں اور مقابلے ہوں آپس میں مادیت کے حصول کے لئے تو پھر یہ خیال کر لینا کہ ہماری اولا د نیک بھی رہے، بہت اچھی ہو، یہ خیال تو اچھا ہے مگر نتیجہ اس کا اچھا نہیں نکلا کرتا۔اچھے نتائج کے لئے خیالات کے ساتھ ٹھوس حقائق کا شامل ہونا بھی ضرور ہوا کرتا ہے۔پس اس پہلو سے سارے امریکہ کی جماعتوں اور کینیڈا کی جماعتوں کو جن تک یہ آواز پہنچتی ہے، خصوصیت کے ساتھ اور تمام عالم کی جماعت کو بالعموم اس قرآن کریم کے بیان فرمودہ سکتے کی طرف بہت گہری توجہ کرنی چاہئے۔آپ حسنات پر قائم ہیں کہ نہیں؟ یہ پہلا سوال ہے۔آپ کے دل واقعہ نیکی کی طرف مائل ہیں کہ نہیں؟ کیا آپ دین کو دنیا پر فضیلت دیتے ہیں یا نہیں دیتے ؟ اگر ان سوالات کے جوابات مثبت ہیں تو میں قرآن کی زبان میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کی اولاد میں ضائع نہیں ہوں گی انشاء اللہ تعالیٰ۔سوائے اس کے کہ بعض دوسری حماقتیں اور کمزوریاں آڑے آجائیں اور وہ بد قسمتی کے ساتھ اولاد پر بداثرات ڈال دیں۔بعض دفعہ لوگ نیک بھی ہوتے ہیں، خوبیوں سے مزین ہوتے ہیں لیکن خبر دار نہیں ہوتے۔چنانچہ قرآن کریم نے خبر دار رہنے کی طرف بھی بار بار ہمیں توجہ دلائی ہے۔اس وجہ سے بعض نیکوں کی اولادیں بھی ضائع ہو جاتی ہیں۔وہ خود نیک ہوتے ہیں مثلاً ماں بھی ، باپ بھی دونوں نیکیوں سے بھرے ہوتے ہیں، نمازیں پڑھ رہے ہیں، خدا کو یاد کرتے ہیں لیکن قرآن کریم فرماتا ہے کہ یہ 790