تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 772 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 772

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 16 اکتوبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم جائیں؟ ہر آنے والا خدا کا بندہ تھا اور خدا کے بندے کے طور پر خدا کے بندے دونوں ہاتھوں سے اسے سینے سے لگا کر قبول کیا کرتے تھے۔ہر آنے والا تقویٰ کی رونقیں ساتھ لے کر آتا تھا اور ہر تقویٰ والا مقابلہ اسے تقویٰ کے نور سے اسے اور بھی زیادہ مزین کرتا چلا جاتا تھا۔یہ وہ دور تھا اگر یہ اسی طرح جاری رہتا تو بعید نہیں تھا کہ آج اس ملک کی ایک بھاری تعدا د خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ احمدیت اسلام میں داخل ہو چکی ہوتی۔اور بجائے اس کے کہ یہ ملک دنیا میں برائیاں پھیلانے کا اڈا بنا ہوا ہوتا، بجائے اس کے کہ دنیا میں گند پھیلانے کے لئے یہاں سب سے بڑی صنعتیں قائم ہوتیں۔یہاں سے دنیا کے لئے رحمتیں بانٹی جاتیں، دنیا یہاں سے نعمتیں حاصل کرتی ، دین کی بھی اور دنیا کی بھی۔اور عظیم الشان محسن کے طور پر یہ ملک دنیا کے سامنے ابھرتا۔جتنی اس قوم کی تعداد ہے، وہ اتنی بڑی طاقت ہے، اگر وہ اسلام کے رنگ میں رنگین ہو کر اسلامی تہذیب سے وابستہ ہو جائیں اور اس رنگ ڈھنگ کو اپنے لئے اختیار کرلیں اور خلافت کی تنظیم سے وابستہ ہو جائیں تو دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے۔اور کوئی دنیا کی سازش کوئی دنیا کی طاقت ان کو دبا نہیں سکتی۔پھر اس طرح ابھریں گے کہ ناممکن ہے کہ ساری دنیا بھی چاہے تو ان کو دبادے۔اسلام میں اگر چہ بظا ہرا بھر نے کی تعلیم نہیں ہے، بظاہر بغاوت سے منع کیا گیا ہے اور انکسار بتایا گیا ہے، Humility سکھائی گئی ہے کہ عاجز بندے بنو۔اور اسلام بتاتا ہے کہ خدا کو عجز کی راہیں پسند ہیں۔لیکن اس میں ایک بہت بڑا حکمت کا ایک راز ہے کہ وہ قو میں، جو خدا سے محبت کے نتیجے میں عاجز بنتی ہیں، ان کے اندر خدا کی طاقت پیدا ہو جاتی ہے، ان کو خدا اپنی عظمتیں عطا کرتا ہے اور کوئی دنیا کی قوم نہیں ہے، جو ان لوگوں کو دبا سکے، جن میں خدا کی طاقت پیدا ہو جائے۔اس لئے میں یہ کہہ رہا ہوں کہ آج دنیا کی تقدیر کا نقشہ بدل چکا ہوتا۔آج اور مسائل دنیا میں ہو رہے ہوتے ، آج امریکہ کے میدان سے اسلام کا سورج طلوع ہورہا ہوتا اور وہ جو آپ باتیں سنتے تھے کہ مغرب سے سورج طلوع ہوگا۔آپ اپنی آنکھوں سے اس کو ظہور ہوتے ہوئے دیکھ لیتے۔چھوٹی چھوٹی بدنصیبیاں ہیں۔اپنے ہی مرضوں کا شکار بعض لوگ اپنے آپ کو دنیا کی فضیلت کے نتیجے میں افضل سمجھنے لگ جاتے اور اب خدا کے ان بندوں سے جو دنیا کے لحاظ نسبتاً ان کے کم درجے پر ہوں، ان سے تکبر کا سلوک کرتے۔اگر آپ ان میں سے نہیں ہیں، جنہوں نے تکبر کا سلوک کیا تو پھر بھی جیسی محبت کا سلوک چاہئے تھا، جیسے سینے سے لگانے کی ضرورت تھی ، ویسا آپ نے نہیں کیا۔چنانچہ بعد میں اسلام کے جھوٹے Version بھی آنے شروع ہوئے یعنی مصنوعی اسلام کے نام پر آنے والی تنظیمیں ، جو اس وقت یہاں داخل ہوئی ہیں، جب ان کو دولت دی گئی ہے کہ جاؤ، اس دولت 772