تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 771
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہی ** اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 16 اکتوبر 1987ء آگے بڑھے تو اس بناء پر ان پر دروازے بند کئے جائیں کہ تمہارا رنگ مختلف ہے، تمہاری قومی حیثیت مختلف ہے، تم غریب لوگ ہو۔یہ دروازے ظاہر البعض دفعہ نہیں بند کئے جاتے۔بعض دفعہ دلوں پر تالے پڑتے ہیں اور رجحان بند ہو جاتے ہیں۔ان کی طرف دیکھنے والی نگا ہیں مجرم ہو جاتی ہیں۔ان کو محبت سے سینے سے لگانے کی بجائے وہ ایک ہلکی سے دوری محسوس کرتے ہیں، ایک پردہ سا بیچ میں حائل کر دیتے ہیں۔پس ظاہری طور پر کبھی ایسا واقعہ نہیں سنا ہو گا آپ نے کہ ان لوگوں میں سے احمدی ہوئے ہوں اور ان پر دروازے مسجد کے بند کر دیئے جائیں کہ تم نے نہیں آنا۔لیکن ایسے واقعات آپ نے ضرور دیکھے ہوں گے اور اگر آپ اپنے دل کو ٹول کر دیکھیں تو ہو سکتا ہے آپ کو اپنے اندر بھی ایسی بدنصیبی کبھی دکھائی دے دے کہ آپ نے اپنی روح کے دروازے ان پر کچھ بند کئے یا بھیڑ دئیے کم از کم۔اگر مقفل نہیں کئے تو نہیں چاہا کہ یہ کھلے ہوں اور یہ شوق سے آپ کے اندر داخل ہوں۔اس رجحان کے نتیجے میں جماعت احمدیہ کو اتنا شدید نقصان پہنچا ہے کہ آپ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔" کتنا خوشخبریوں سے بھرا ہوا عظیم الشان زمانہ تھا، جب حضرت مفتی محمد صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہاں تشریف لائے اور جوق در جوق اور قوم در قوم ان لوگوں نے ، جن کو سیاہ فام کہا جاتا ہے، احمد بیت کے لئے اپنے دروازے کھول دیئے، اپنے سینے وا کر دئیے۔اس زمانے میں تار کا خیال بہت شاذ آیا کرتا تھا۔عموماً خطوں کا زمانہ تھا بلکہ لوگ تار کو اتنا بڑا واقعہ سمجھتے تھے کہ تار دینے کی بجائے خط میں لکھا کرتے تھے کہ آپ اس خط کو تار سمجھیں یعنی ہے تو بہت بڑی Urgency ، بہت ہی شدت کی ضرورت ہے لیکن تارتو بہت بڑی بات ہے، اس لئے آپ مہربانی فرما کر میرے خط کو یہ تار سمجھ لیں اور ہمارے دیہات میں خصوصاً پنجاب میں یہ تو عام محاورہ تھا۔اس زمانے میں اتنا Excite ہو گئے حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تاروں پر تاریں دینے لگے۔آج یہاں انقلاب آ گیا، آج وہاں انقلاب آ گیا۔یہاں اب جوق در جوق لوگ شامل ہوئے ، وہاں قوم در قوم لوگ شامل ہونا شروع ہوئے۔اس زمانے میں حضرت مصلح موعودؓ کے خطبے سنیں کس طرح حمد سے بھرے ہوئے ہیں۔ایک غریب جماعت جس کے کارکنوں کو کھانے کی روٹی بھی میسر نہیں، اس کی بھی کوئی ضمانت نہیں، اس کا ایک غریب نمائندہ ایک امیر ترین ملک میں جاتا ہے اور وہاں سے خوشخبریاں بھیج رہا ہے کہ خدا کے فضل سے ان قوموں کے دل کھل رہے ہیں۔کسی نے ان سے یہ سوال نہیں کیا کہ کالے آرہے ہیں کہ سفید آ رہے ہیں؟ کسی نے مفتی محمد صادق سے نہیں پوچھا کہ تم نے حکمت عملی کیا اختیار کی؟ کہیں یہ تو نہیں کر رہے کہ کالوں کو قبول کر رہے ہو اور سفید پیچھے رہ۔771