تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 773
تحریک جدید - ایک الہی تحریک اقتباس از خطبه جمعه فرموده 16 اکتوبر 1987ء کے ذریعے امریکہ میں جاکر اسلام کا پیغام پہنچاؤ۔حضرت نوح کا یہ بیان اگر چہ ان کو جھوٹا بتارہا ہے۔اگر چہ بتا رہا ہے کہ جب تک تمہارے پاس دولت نہیں آئی تم کیوں اس میدان میں نہیں نکلے ؟ اس لئے تم قوموں کی بھلائی کے جذبے سے نہیں نکل رہے، دولت کی خاطر پیسے لے کر اب نکل رہے ہو تبلیغوں کے لئے۔اس کے باوجود چونکہ جماعت احمدیہ نے ایک میدان خالی چھوڑ دیا تھا، اس لئے جوق در جوق یہ لوگ ان کی طرف جانے شروع ہوئے اور ایک بہت بڑی طاقت بن گئے۔مگر بدنصیبی سے۔کیونکہ متقی سیادت ان کو نصیب نہیں ہے، متقی لیڈر شپ نصیب نہیں ہے۔اس لئے وہ لوگ ان کو اسلام میں داخل کر کے ان کو غلط کاموں کے لئے استعمال کرنے لگے۔سیاست کے فائدے اٹھانے کے لئے ان کو جرائم پر آمادہ کیا جاتا ہے، ان سے خوفناک کام لئے جاتے ہیں، ان کو غلط تصور دیئے جاتے ہیں نیکی کے۔اور ہر وہ بات جو اسلام نے غلط قرار دی ، اس کی طرف با قاعدہ منظم طریق پر ان کو تیار کیا جارہا ہے۔کوئی کسی لیبل کے نیچے مسلمان ہورہا ہے، کوئی کسی لیبل کے نیچے مسلمان ہورہا ہے۔اور ہر پیسے دینے والے کا اپنا ایک ذاتی مقصد ہے۔ایک سیاسی مقصد ہے کہ ان کو ہم استعمال کریں۔لیکن یہ وہ جانتے ہیں کہ ہے بہت بڑی طاقت۔یہ طاقت اگر احمدیت میں داخل ہوتی تو اس سے لاکھوں گنا بڑی طاقت بن جاتی۔کیونکہ یہ طاقت خدا کے ہاتھ میں آجاتی ، بندوں کے ہاتھ میں جب طاقتیں آتی ہیں تو وہ ہمیشہ برائی کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔خدا کے ہاتھ میں جب طاقتیں آتی ہیں تو وہ ہمیشہ بھلائی کے بے شمار سر چشمے ان طاقتوں سے پھوٹتے ہیں اور ساری دنیا کو سیراب کر دیا کرتے ہیں۔اس لئے میں سمجھتا ہوں، میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ کس کا قصور تھا کہ کس کا نہیں تھا؟ یا کس کا آج قصور ہے یا کس کا نہیں ہے؟ مگر میں یہ آپ کو بتاتا ہوں کہ قرآن کریم نے یہ جو واقعہ بیان کیا ہے، یہ ایک ہمیشہ کی سچائی ہے۔قرآن کی نظر دلوں پر ہے کیونکہ یہ خدا کا کلام ہے۔اور جیسا جو کچھ نوح کے زمانے میں ہو گزرا، وہ سب کچھ آج بھی یہاں ہوسکتا ہے۔اور ہوسکتا ہے، ہو رہا ہے۔اس لئے ہم نتائج کے لحاظ سے جانچ سکتے ہیں۔میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ فلاں نے یہ ظلم کیا یا فلاں مبلغ سے یہ غلطی ہوئی یا فلاں آنے والے نے یہ قصور کیا ؟ مگر میں یہ جانتا ہوں کہ ہم سب سے کوئی اجتماعی قصور ضرور ہوا ہے۔ورنہ آج اس حالت میں ہم احمدیت کو یہاں نہ دیکھتے۔اس لئے اس نظریے کو تبدیل کریں۔اس لئے نہیں کہ آپ نے ان کو حاصل کرنا ہے۔اس لئے کہ آپ ہلاک ہو جائیں گے، اگر آپ نے یہ نظریہ تبدیل نہ کیا۔تعداد جیتنے کی خاطر جو بھی آپ فعل کریں گے، وہ بے معنی ہے۔آپ نے خدا جیتنے کی خاطر فعل کرنے ہیں۔773