تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 756 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 756

خطبہ جمعہ فرموده 09 اکتوبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہفتم دوسری طرف ہم اس پہلو سے جب امریکہ کا جائزہ لیتے ہیں کہ ایک بے خدا نظام کے مقابل پر خدا والوں کو امن کی ضمانت دیتا ہے تو بے اختیار دل امریکہ کی طرف مائل ہوتا ہے اور اس کا ممنون ہوتا ہے کہ باہر کی دنیا کے لئے کم سے کم یہ ضمانت ضرور ہے کہ زبردستی کوئی بے خدا نظام ان پر نہیں ٹھونسا جائے گا۔بہت بڑی خدمت ہے دنیا کی اور بہت بڑا تحفظ ہے مذاہب کو جو اس پہلو سے امریکہ مہیا کرتا ہے۔دوسرے پہلو سے دیکھیں تو مذاہب کی روح کو کھا جانے والے جتنے بھی ایسے مضرات ہیں، ایسے خوفناک عوامل ہیں، جو مذہب کی روح کا چاٹ جاتے ہیں اور اخلاق کی بنیادیں ہلا دیتے ہیں، وہ سارے عوامل امریکہ میں پیدا ہورہے ہیں۔اور وہ سارے مضرات امریکہ سے باہر کی دنیا میں بھیجے جارہے ہیں۔خود امریکہ کی سوسائٹی بھی خدا کی طرف منسوب ہونے کے باوجود عملی طور پر خدا سے اس طرح دور ہوتی چلی جارہی ہے کہ جو شائبہ خدا کی طرف منسوب ہونے کے نتیجے میں اعمال میں ملنا چاہئے ، ایک تصویری ، ایک جھلکی سی دکھائی دینی چاہئے ، وہ دن بدن زائل ہوتی چلی جارہی ہے اور عنقاء ہوتی چلی جارہی ہے۔ہر اخلاقی خرابی کی جڑیں امریکہ کی آزاد تہذیب میں وابستہ ہیں۔پس ایک طرف سے جو امن دیا، دوسرے ہاتھ سے وہ امن بھی واپس لے لیا۔پھر ایک طرف سے جو امن دیا، دوسرے ہاتھ سے وہ امن بھی واپس لے لیا۔اور اس تضاد کا بھی ان کے پاس کوئی جواب نہیں۔ان کے مفکرین جوان مسائل پر غور کرتے رہتے ہیں، ان کے سامنے یہ مسائل موجود ہیں اور بہت سی بین الاقوامی کوششیں ایسی نظر آتی ہیں، جن سے پتا چلتا ہے کہ بالا رادہ منصوبے بنا کر ان مسائل کا حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔مگر جتنے بھی ایسے منصوبوں کا میں نے گہری نظر سے مطالعہ کیا اور جو لٹریچر امریکہ کی طرف سے مختلف ایجنسیوں کے نام پر یا مختلف مصنفین کے نام پر ان مسائل کو حل کرنے کے لئے بظاہر آزادانہ شائع کروایا جاتا ہے، اس کا بھی میں نے جائزہ لیا تو میں اس نتیجے پہ پہنچا کہ یہ کوشش بھی خود مزید تضادات کا شکار ہے۔ایسی سوسائٹی جو اس قسم کے تضادات کا شکار ہو چکی ہو، اس کے زندہ رہنے اور پنپنے کے بظاہر کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔لازماً کچھ ہونا ہے، لازماً خدا کی تقدیر کچھ ایسی باتیں ظاہر کرے گی ، جس کے نتیجے میں یہ فرسودہ نظام مٹنے ہیں۔اور اس کے سوا کوئی چارہ دکھائی نہیں دیتا۔صرف فیصلہ کن امر یہ ہے کہ کیسے یہ نظام میں گے؟ جیسا کہ میں نے بیان کیا، اب تو نہ مشرق سے کوئی امید رہی، نہ مغرب سے کوئی امید رہی۔اور جہاں تک مذہبی نکتہ نگاہ کا تعلق ہے، ایسی کوئی قوم دکھائی نہیں دے رہی، جو خالصتہ للہ اور خالصہ بنی نوع انسان کے تعلق کی بناء پر کوئی منصوبہ رکھتی ہو اور اسے عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر رہی ہو۔756