تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 707 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 707

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔جلد هفتم خطبہ عید الاضحیه فرموده 05 اگست 1987ء جس کو اس آیت میں ذراسی ترتیب بدلنے سے بیان کر دیا گیا۔اسی لئے قرآن کریم میں ایک ایسی آیت رکھی گئی ، جو اس سے پہلے کسی اور کتاب میں آپ کو نہیں ملتی۔اور وہ سورۃ بقرۃ کی پہلی آیت ہے:۔هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ یہ کتاب ہے متقیوں کو ہدایت دینے والی۔حالانکہ جتنی دوسری کتا بیں ہیں ، ان کا مطالعہ کر کے دیکھیں ، وہ یہ کہتی ہیں، یہ کتاب ہے متقی بنانے والی۔اس تعلیم پر عمل کرو گے تو نیک بن جاؤ گے۔یہ کیا دعوئی ہے کہ نیکوں کو ہدایت دینے والی ؟ اور معانی کے سوا ایک اس کا تعلق اس سے بھی ہے، جو اس سے پہلے زکیھم والی آیت آپ کے سامنے پڑھ کر سنائی۔فرمایا کہ یہ تزکیہ کرتا ہے اور تزکیہ کے نتیجہ میں انسان کو اس بات کا اہل بنادیتا ہے کہ نہایت اعلیٰ درجہ کا علم وہ حاصل کر سکے۔جس میں کوئی خامی نہ ہو، کوئی کبھی نہ ہو۔اور ایسی حکمتوں تک اس کی رسائی ہو جائے کہ جن حکمتوں تک عام انسان کی رسائی ہو ہی نہیں سکتی ، جن کا تزکیہ نہ ہو۔پس علم غیر پاکیزہ انسان کو بھی مل جاتا ہے اور حکمتیں بھی ایک غیر پاکیزہ انسان کسی حد تک سمجھ جاتا ہے۔لیکن ایک پاکیزہ انسان کا علم اور ایک پاکیزہ انسان کی سمجھی ہوئی حکمتیں ایک بالکل اور مقام رکھتی ہیں۔ان کا مرتبہ عام دنیا وی علم اور دنیاوی حکمتوں سے بہت زیادہ بلند ہو جاتا ہے۔پس حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا اس سے بہت زیادہ مقبول ہوئی ہے، جتنا حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے کبھی تصور بھی باندھا تھا۔اس کو کہتے ہیں، کچی مقبولیت۔پس جس خدا نے ہمیشہ یہی رحمت اور شفقت کا سلوک فرمایا ہے۔حضرت مریم کی والدہ نے جو دعا مانگی ، ایک ایسے لڑکے کی دعا تھی ، جسے وہ سینی گاگ کے لئے ، یہود کے معبد کے لئے وقف کر دیں گی گویا کہ وہاں بیٹھ کر وہ ایک قسم کا یہودی عالم اور نیک یہودی عالم بن کر پرورش پائے گا اور جب وہ لڑکا نہیں ملا اور لڑکی ملی تو گھبراگئیں کہ میں نے تو بہت بڑی دعامانگی تھی ، یہ تو چھوٹی سی قبولیت ہوئی ہے۔اللہ نے کہا تجھے کیا پتہ؟ میں نے تو قبول حسن کیا ہے۔مریم کے نام سے آئندہ دنیا میں عظیم انقلاب آنے والا ہے۔اس کی کوکھ سے وہ بچہ پیدا ہوگا، جس مسیح کا ساری دنیا انتظار کر رہی ہے۔تو بسا اوقات دعا قبول ہوتے وقت بھی انسان کو پتہ نہیں لگ رہا ہوتا کہ کس رنگ میں دعا قبول ہوئی ہے؟ یہ دو مثالیں آپ کے سامنے رکھ کر میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ایک اصول ہے قطعی کہ جب خدا قبول فرمالے تو توقع سے بہت بڑھ کر عطا کیا کرتا ہے۔اس لئے جب آپ اپنے بچوں کو وقف کریں تو اس مذہبی تاریخی پس منظر کو پیش نظر رکھیں۔سب سے پہلے اپنی نیتیں پاک کریں اور بچپن سے ہی تربیت کرتے وقت ان کو یہ بتائیں 707