تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 706 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 706

خطبہ عید الاضحیہ فرمودہ 05 اگست 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد ہفتم اس کے نتیجہ میں طبعا اس میں تزکیہ نفس پیدا کرنے کی طاقت پیدا ہو جائے گی۔یہ ذہنی مضمون ہے، جو بتا رہا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ السلام نے ایک منطقی نتیجہ نکالا۔وہ منطقی نتیجہ یہ تھا کہ جو رسول خدا کا کلام سناتا ہے، پھر کتاب کا علم دیتا ہے، پھر کتاب کی حکمتیں بیان کرتا ہے، اس کے نتیجہ میں قوم کے اندر پاک ہو جانے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔آیتیں سننا، ان کے علم کو اچھی طرح سمجھنا کہ کس طرح ان آیات پر عمل ہونا چاہئے؟ اس کی تعلیم پر عمل ہونا چاہئے؟ اور پھر حکمتیں بیان کرنا، یہ ساری چیزیں مل کر گو یا تزکیہ نفس پیدا کرتی ہیں۔خدا تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرماتے وقت اس دعا کی ترتیب بدل دی فرمایا :۔هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِيْنَ رَسُوْلًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَلَتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلْلٍ مُّبِيْنٍ ( الجمعة : 3) کہ دعا قبول کی ہے لیکن بدلی ہوئی ترتیب کے ساتھ۔وہ اس طرح کہ فرمایا کہ ہم نے رسول پیدا کر دیا، جو اللہ کی آیات ان کو پڑھ کر سناتا ہے۔لیکن اس میں تزکیہ کی ایسی عظیم الشان طاقت ہے کہ اس بات کا انتظار نہیں کرتا کہ پہلے تعلیم کتاب کرنے اور تعلیم حكمة کرے، پھر تزکیہ کرے۔براہ راست اس کی قوت قدسیہ اس طرح دوسروں میں سرایت کر جاتی ہے، جس طرح بجلی کی غیر مرئی شعاعیں بعض دفعہ دوسرے وجود میں سرایت کر رہی ہوتی ہیں یا ریڈی ایشن سرایت کر رہی ہوتی ہے کئی قسم کی۔تو اس کا قرب ہی تزکیہ نفس کا موجب بن جاتا ہے۔یہ وہ بات ہے، جسے خدا نے جہاں بھی اس کی تکرار کی ہے، قرآن کریم میں اسی ترتیب کو قائم رکھ کر کی ہے۔حضرت ابراہیم کی دعا یہی رہی اور جواب خدا کا ہمیشہ یہی رہا کہ میں قبول کروں گا لیکن زیادہ شان کے ساتھ۔اس سے زیادہ شاندار وجود عطا کروں گا تیری نسل میں، جس کا تو نے تصور باندھا ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ جو آج بھی زندہ ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ و السلام کے تجربہ کے مطابق، جس کو آپ نے بارہا ہمارے سامنے بڑی قوت سے بیان کیا، وہ ایک الگ مضمون ہے، اس کا علم سے کوئی تعلق نہیں، اس کا حکمت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ علم اور حکمت کا اس قوت قدسیہ سے تعلق ہے۔جتنا زیادہ تزکیہ کرے گا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود، اتنا ہی زیادہ سچا علم پانے کا بندہ اہل ہوتا چلا جائے گا۔اتنا ہی زیادہ خدا تعالیٰ کے کلام کی حکمتوں کو سمجھنے کا انسان اہل ہوتا چلا جائے گا۔یہ ہے وہ کامل مضمون، 706