تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 708
خطبہ عید الاضحیہ فرمودہ 05 اگست 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم کہ وقف کا یہ مضمون ہے۔اور انہیں خوب سمجھا ئیں کہ تم بڑے ہوکر آزاد ہو جاؤ گے، میرے اس عہد سے تمہیں دوبارہ پھر عہد کرنا ہوگا۔اور میں ابھی یہ بات کھول دیتا ہوں کہ جن کے وقف قبول ہوئے ہیں، اس شرط کے ساتھ قبول ہوئے ہیں، اگر بچے بڑے ہوئے اور یہی تمنا ان کے دل میں رہی ، جو تمنا باپ کے دل میں تھی یا ماں کے دل میں تھی کہ ہم نے ضرور واقف ہونا ہے تو پھر ان کا جائزہ لیا جائے گا۔پھر اگر جماعت کے لئے وہ مفید وجود ثابت ہوئے کسی رنگ میں تو انہیں قبول کیا جائے گا۔تو دو قسم کی پھر قبولیتیں سامنے آجائیں گی۔ایک وہ جو نیتوں کی قبولیت ہوتی ہے، خدا کے حضور اور انہیں وہ جزا دے دیتا ہے۔ایک وہ قبولیت، جس کو پھر خدا تعالی اس رنگ میں قبول فرماتا ہے، حسن کے طور پر، اس کی تربیت کا بھی انتظام فرماتا ہے، اسے اپنا لیتا ہے، اپنے کاموں میں لیتا ہے، اسے قربان گاہیں اس کی دکھاتا ہے، اس سے عظیم الشان خدمتیں لیتا ہے۔تو پہلی فتہ کی جو قبولیت میں نے بیان کی ہے، وہ تو عموماً جب بھی انسان نیت کرتا ہے ، وہ اس کو حاصل ہو ہی جاتی ہے۔اللہ اتنا رحم کرنے والا ، شفقت کرنے والا ہے، کوئی ادنی سا خیال بھی نیکی کا دل میں پیدا ہو تو اس کی جزا دے دیتا ہے۔لیکن آپ دوسری مقبولیت کے لئے دعا کریں کہ خدا پھر اسے اس شان کے ساتھ قبول کرے کہ اس بچے کی تربیت میں آپ کا ممد و معاون ہو جائے۔بلکہ اسے اپنا ہی لے شروع سے ہی خود براہ راست اس کی تربیت فرمائے اور پھر جب وہ بڑا ہو تو اسے اپنا بنا کر اس سے کام لے، اس کو بتائے کہ میں نے تجھ سے کیا کیا خدمتیں لینی ہیں اور پھر ان خدمتوں میں اس کو ثابت قدم رکھے۔اگر ہم ان نیتوں کے ساتھ اپنی دعائیں کرتے ہوئے ، اس میں یہ اضافہ کر دیں، اپنی نیتوں میں اے خدا! یہ بچہ جو میں نے وقف کیا ہے، آئندہ اس کی نسلیں بھی وقف ہوں ، قیامت تک، جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے عرض کیا تھا:۔رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةٌ مُسْلِمَةً لَكَ ایک امت پیدا ہو جائے عظیم الشان قوم وجود میں آئے ، جو ساری کی ساری واقف زندگی ہو۔ان نیتوں کے ساتھ اگر آپ دعا ئیں کرتے ہوئے اپنے بچے وقف کریں تو آپ تصور نہیں کر سکتے کہ آئندہ دنیا پر کتنا بڑا احسان کر رہے ہو گے؟ کتنے عظیم الشان وجود آپ کی نسلوں سے پیدا ہوں گے، جو آپ کو دعائیں دیں گے ، آپ پر رحمتیں بھیجیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے خلوص نیت کو قبول کرتے ہوئے آئندہ بنی نوع انسان کی بھلائی کے سامان پیدا کئے اور خود آپ کی نسل پر آپ کا اتنا بڑا احسان ہوگا کہ شاذ کے طور پر دنیا میں کوئی والدین اپنی نسل پر ایسا احسان کرتے ہیں، جیسا ایک وقف کرنے والا اگر خلوص کے ساتھ وقف کرے، وہ اپنی نسل پر احسان کرتا ہے۔708