تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 701 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 701

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد هفتم خطبہ عید الاضحیه فرموده 05 اگست 1987ء پس اللہ تعالیٰ نے اسے قبول فرما لیا اور بہت ہی عمدہ طریق پر قبول فرمایا، بہترین رنگ میں قبول فرمایا۔اور قبول فرمانے کے بعد انبتھا نباتا حسنا پھر اس کی پرورش کی نہایت بہترین طریق پر۔اس سے اور زیادہ بات واضح ہوگئی کہ عام نیکیاں اور زندگی کے وقف کرنے کی نیکی میں ایک فرق ہے۔عام نیکیاں تو کمزور بھی ہوں، ان میں کچھ خامیاں بھی رہ جائیں بالعموم اللہ تعالی پردہ پوشی فرماتا ہے اور قبول فرماتا چلا جاتا ہے۔لیکن جب ایک انسان اپنے وجود کو خدا کے حضور پیش کرتا ہے تو اس وقت خدا تعالیٰ کا اسے اپنا لینا، یہ ہے قبولیت۔اسے اپنا بنالینا اور اپنے نمائندہ کے طور پر قبول کر لینا ، چنانچہ انبتها نباتا حسنا آیت کا یہ ٹکڑا بتا رہا ہے کہ جب خدا تعالیٰ کسی وجود کو قبول کر لیتا ہے تو پھر اس کی تربیت کی ذمہ داری بھی خود لے لیتا ہے۔پھر آغاز ہی سے اس پر نظر کرم فرماتے ہوئے اس کی بہترین رنگ میں تربیت کا انتظام فرماتا ہے۔پس حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام خصوصیت کے ساتھ جس قبولیت کی دعا کر رہے ہیں، اس سے مراد یہ ہے کہ میں بھی اپنی زندگی وقف کرتا ہوں تیرے حضور، اسماعیل بھی تیرے حضور زندگی وقف کرتا ہے اور یہی نہیں، ہم آئندہ اپنی نسلوں کو بھی تیرے حضور پیش کرتے ہیں۔تو قبول فرما یعنی ہمیں اپنا بنا لے۔پھر ہماری تربیت فرما، اپنی نمائندگی میں ہم سے کام لے، ہماری قربان گاہیں دکھا۔کہاں کہاں ہم نے کیا قربانیاں دینی ہیں؟ اور ہمیں قربانیاں بتا کہ کس طرح پیش کرنی ہیں؟ گویا کہ ہم جب کلیڈ ا۔آپ کو تیرے سپر د کر رہے ہیں تو ہدایات دینا پھر تیرا کام ہے۔اس تشلسل سے یہ آیت خوب کھل کے واضح ہو جاتی ہے۔اس کے بعد پھر جہاں یہ آیت اپنے معراج کو پہنچتی ہے، یہ دعا یعنی اپنے معراج کو پہنچتی ہے۔یہ وہ تیسر ا حصہ ہے۔فرمایا:۔رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُوْلًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتب وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ اس التجا اور الحاح کے ساتھ ہم اپنا وجود اور اپنی آئندہ نسلوں کا وجود تیرے حضور پیش کر رہے ہیں اور قبولیت کی التجا کرتے ہیں کہ اس کے نتیجہ میں اگر تو قبول فرمالے تو ہماری آخری تمنا یہ ہے کہ اس کائنات میں ظاہر ہونے والا سب سے بڑا رسول ہماری نسل ہی سے پیدا ہو۔اور گویا یہ تیری طرف سے قبولیت کا نشان ہوگا۔وہ رسول ، جس کا تو نے وعدہ کیا ہے کہ دنیا کو عطا کیا جائے گا ، وہ ان میں سے پیدا فرما۔یتلوا علیهم ایسا نک وہ تیری آیات پڑھ کر سنائے دنیا کو، ان کو تعلیم کتاب دے، ان کے سامنے کتاب کی وہ پڑھ کی 701