تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 702 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 702

خطبہ عیدالاضحیہ فرمودہ 05 اگست 1987 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم حکمتیں بیان فرمائے۔ویزکیھم اور انہیں پاک فرماتا چلا جائے۔انک انت العزيز الحكيم یقینا تو بہت ہی غالب عزت والا اور حکمت والا خدا ہے۔ان آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے جس خاص ادا کے ساتھ رہنا تقبل منا کہا ہے، اس میں آپ کے وجود کی ساری سچائی گھل مل گئی تھی۔ایک ذرہ بھی انانیت کا آپ نے باقی نہیں رہنے دیا۔اس کامل خلوص اور الحاح کے ساتھ ، اس کامل عشق اور وارنگی کے ساتھ اپنا وجود، اپنے بیٹے کا وجود اور اپنی آئندہ نسلوں کا وجود پیش کیا ہے کہ اس کے بعد یہ دعا جو مانگی گئی ، یہ دعا سننے کے لائق ٹھہری۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کے متعلق یہ طلب کرنا کہ ہماری نسلوں سے ہو، یہ کوئی معمولی دعا نہیں تھی۔اس دعا کے استحقاق کے لئے ایک لمبی نسل اتقیاء کی ضروری تھی ، آباؤ اجداد کا ایک سلسلہ چاہئے تھا، جو خدا تعالیٰ کی پناہ کے نیچے، اس کی نظر کے نیچے اس وجہ سے تربیت پار ہے ہوں کہ آئندہ ان میں سے وہ عظیم الشان رسول پیدا کیا جائے گا۔پس تقبل منا کی تان وہاں جا کے ٹوٹتی ہے، جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کا اپنی نسل سے پیدا ہونا عرض کیا گیا ہے۔ایک تیسری جگہ بھی قبولیت اور رڈ کا ذکر ملتا ہے۔اور وہ ہے آغا ز ہی میں جب نبوت کا آغاز ہوا۔اس وقت خدا نے ایک واقعہ کو محفوظ فرمایا اور ہمارے لئے نصیحت کے طور پر بیان کیا۔فرمایا:۔وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَى أَدَمَ بِالْحَقِّ (المائدة: 28) ان کے سامنے آدم کے دو بیٹوں کا واقعہ کامل سچائی کے ساتھ بیان کرو۔بالحق سے مراد یہ ہے کہ سننے والوں کی توجہ اس طرف مبذول ہو کہ واقعہ بعینہ اسی طرح ہوا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نہ مبالغہ ہے، نہ کمی کی گئی ہے۔قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلُ مِنَ الْآخَرِ جب ان دونوں نے خدا کے حضور ایک قربانی پیش کی ، فتقبل من احدهما ان میں ایک سے تو وہ قبول فرمائی گئی ، ولم يتقبل من الآخر، دوسرے سے وہ قربانی قبول نہیں کی گئی۔قال لا قتلنک اس نے کہا: میں تجھے قتل کر دوں گا۔قال انما يتقبل الله من المتقين ( دوسرے نے جوابا کہا ) کہ اللہ تعالیٰ متقیوں کی قربانیاں قبول کیا کرتا ہے، ہر قربانی کو قبول نہیں کیا کرتا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہاں کون سی قربانی تھی ؟ پرانے طریق کے مطابق کیا کوئی سوختنی قربانی تھی یا کوئی جانور ذبح کیا گیا تھا؟ اگر ایسا تھا تو جس کی قربانی قبول نہیں ہوئی تھی ، اس کو کس طرح پتہ چلا کہ 702