تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 700
خطبہ عید الاضحیہ فرمودہ 05 اگست 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہفتم جس کسی نے بھی ایک ذرے کے برابر بھی نیکی کی ، وہ خدا کی نظر کے سامنے رہتی ہے۔اور جس کسی نے بھی ایک معمولی ادنی اسی بھی بدی کی ، ذرہ کے برابر وہ بھی خدا کی نظر کے سامنے ہوتی ہے۔تو جب نیکیوں کے متعلق خدا تعالیٰ کا بندوں سے یہ سلوک دکھائی دیتا ہے اور ویسے بھی انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ نیکیاں تو کی ہی خدا کی خاطر جاتی ہیں۔اس بات کا احتمال کیا ہے کہ نیکی ہم کریں اور خدا قبول نہ کرے؟ اس کے باوجود حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا خصوصیت کے ساتھ یہ عرض کرنا کہ تقبل منا اے خدا! ہم سے قبول فرمالینا۔کیا وہ کوئی خاص نیکی تھی ؟ کیا وہ کوئی خاص قسم کی قربانی تھی، جو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے ذہن میں تھی؟ جب اس سے اگلی آیت کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہاں کسی قدریہ تفصیل ملتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے وہ کیا چیز تھی، جسے وہ خدا کے حضور پیش کر رہے تھے؟ فرمایا:۔رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةٌ لَكَ کہ اے خدا! ہم باپ اور بیٹا اپنے دونوں کے وجود تیرے حضور پیش کر رہے ہیں ، کامل طور پر تیرا ہو جانے کا وعدہ کرتے ہیں، اور یہی تمنا لے کر آئے ہیں۔اور صرف یہی نہیں بلکہ ہم یہ بھی التجا کرتے ہیں کہ ہماری اولاد کو بھی اپنے لئے وقف کر لینا اور اپنا بنالینا وارنا منا سکنا وتب علینا کا مضمون اس وقف سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔اس کے بعد یہ عرض کیا: ارنا منا سکتا جب تو نے ہمیں اپنا بنا لیا، ہم تیرے لئے وقف ہو گئے تو پھر ہمیں خدمت پر لگانا ہمیں بتانا کہ یہ یہ قربانیاں کرو۔یہ یہ تمہاری قربان گاہیں ہیں اور پھر ہم سے عضلتیں ہوں گی ، کمزوریاں ہوں گی ، تیرے منشا کو عین تیری مرضی کے مطابق ادا نہیں کر سکیں گے۔تب علینا پھر ہم سے مغفرت کا سلوک بھی فرمانا اور بار بار ہماری لغزشوں سے پردہ پوشی کرنا۔ہماری تو بہ کو قبول کرنا۔انک انت التواب الرحيم تو تو بہت ہی زیادہ بار بار توبہ کو قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔تو معلوم ہوا کہ جہاں قبولیت کا مضمون ملتا ہے، وہاں وقف زندگی کے ساتھ اس کا تعلق ہے۔اور یہ مضمون ایک اور آیت میں بھی خوب کھول کر بیان ہوا ہے۔جس کا تعلق حضرت مریم کی والدہ کے منت ماننے سے ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب حضرت مریم کی والدہ نے خدا کے حضور دعا کی کہ میں تیرے حضور وہ بچہ پیش کرنا چاہتی ہوں، جو میرے پیٹ میں ہے، تو اسے قبول فرما لے۔وہاں بھی لفظ قبول استعمال ہوا۔جواباً خدا نے فرمایا:۔فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلِ حَسَنٍ وَأَنْبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا 700 (آل عمران: 38)