تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 640 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 640

خلاصہ خطاب فرموده یکم اگست 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم شدید مخالفت کی لہر دوڑ گئی اور ہر طرف سے شدید معاند علماء اکٹھے ہونے شروع ہوئے۔اور ان سب نے جماعت احمدیہ کو مباحثے کا چیلنج دیا۔مباحثے سے پہلے ان علماء نے یہ ڈھنڈورہ پیٹوایا کہ آج کا دن ہار اور جیت کا دن ہے۔اور جماعت احمد یہ ہار جائے گی، اس لئے لوگ کثرت سے یہ مباحثہ دیکھنے کے لئے احمدیہ آئیں۔چنانچہ دو سو غیر احمدی احباب کی موجودگی میں یہ مباحثہ ہوا۔خدا تعالیٰ کی عجیب شان ہے کہ مخالف مولوی، جو ان کی طرف سے پیش ہو رہا تھا، اس نے ہمارے دلائل سننے کے بعد ہمارے حق میں فیصلہ دے دیا۔( نعرہ ہائے تکبیر۔احمدیت زندہ باد ) اب انہوں نے کہا ہے کہ ہم نیا مولوی لے کر آئیں گے۔بھارت میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسے آثار ظاہر ہورہے ہیں، جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ انشاء اللہ فوج در فوج لوگ احمدیت میں داخل ہوں گے۔حیدر آباد کے ارد گرد کے علاقے میں جو خدا تعالیٰ کے فضل سے غیر معمولی دعوت الی اللہ کی روچلی ہے، اس کا کچھ ذکر میں نے پچھلے سال بھی کیا تھا۔اس کے نتیجے میں سارے ہندوستان میں مخالفت کی ایک لہر دوڑ گئی اور بڑے بڑے علماء اکٹھے ہوئے اور انہوں نے پورا زور لگایا کہ وہ نئے دیہات، جو جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے تھے ، ان کو مر تذ کریں لیکن کلیتہ ناکام رہے۔اور جماعت کو کم کرنے کی بجائے ان کوششوں کے نتیجے میں دور دور تک جماعت کا تعارف ہوا اور باہر سے جماعت کو پیغام آنے لگے کہ ہمیں بھی آکر بتاؤ کہ تم لوگ کیا چیز ہو؟ چنانچہ اب یہ دائرہ پھیل چکا ہے۔اور حیدر آباد سے تین کلو میٹر دور ضلع کھیم میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے تھوڑا عرصہ پہلے ہی 80 افراد بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شامل ہو چکے ہیں اور دونئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔اور یہ دونوں جماعتیں ایسی قائم ہوئی ہیں کہ یہ اپنی بیوت الذکر بھی ساتھ لے کر آئی ہیں۔اسی طرح وہاں کے ہمارے مربی انچارج لکھتے ہیں کہ گاؤں ملیر میں ڈیڑھ صد گھرانوں کے تقریباً سات صدا افراد نے خدا کے فضل سے اجتماعی بیعت کر لی اور ان کے ساتھ دو بنی بنائی بیوت الذکر تحفے کے طور پر آئیں۔ایک دوسرے گاؤں کر اٹلی میں جس میں زیادہ تعداد غیر از جماعت دوستوں کی ہے، اس ماہ تمام غیر احمدیوں نے احمدیت میں شامل ہونے کی درخواست کی۔اور ساتھ یہ عجیب شرط لگائی کہ پہلے غیر احمدی مولویوں کو وہاں سے نکال دو۔ہم تو نہیں نکالتے۔خدا کی تقدیر جن کے پاؤں اکھیڑ تی ہے، وہ خود ہی نکل جاتے ہیں۔اس لئے یہ عجیب شرط اس طرح تو قبول نہیں ہو سکتی کہ ہم ان کو نکالنے کی کوشش کریں۔یہ وارنگل کا علاقہ تھا، جہاں سے آغاز ہوا۔اب تل گنڈہ کے علاقے میں بھی، جو اس سے ملحق علاقہ ہے، خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت پھیلنی شروع ہو گئی ہے۔وہاں بھی چار نئی جماعتیں بوت الذکر سمیت 640