تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 641
تحریک جدید- ایک الٹی تحریک۔۔۔جلد ہفتم خلاصہ خطاب فرموده تیم اگست 1987ء یعنی وہاں بیوت الذکر بنانے کی بھی ضرورت پیش نہیں آئی۔اپنی بیوت الذکر لے کر گاؤں کے گاؤں داخل ہوئے۔اور خدا کے فضل کے ساتھ صرف بیوت الذکر ہی نہیں آئیں ، ان کے امام بھی ساتھ آئے۔اس ضمن میں، میں یہ کہنا چاہتاہوں کہ بھارت میں جو رو چلی ہے، اس سے استفادہ کے لئے ہمیں کثرت کے ساتھ نئے واقفین زندگی کی ضرورت ہے۔بھارت میں بہت سے ایسے احمدی موجود ہیں، جو خدا تعالیٰ کے فضل سے علم و فضل کے لحاظ سے ایک اچھا مقام رکھتے ہیں اور ملازمتوں سے فارغ ہو چکے ہیں یا فارغ ہونے کے قریب ہیں۔ان کو چاہیے کہ اپنے آپ کو وقف کریں۔احمدیت کی ضرورتیں مقدم ہیں۔ان کو مقدم رکھنا چاہیے اور بجائے اس کے کہ ساری عمر کی نوکریوں کے بعد پھر نوکریوں کی تلاش میں سرگرداں ہوں۔میرا ان کو مشورہ یہی ہے کہ وہ جلد از جلد اپنی خدمات کو دین کے لئے پیش کر دیں۔یہ ایسی عظیم سعادت ہے کہ جب وہ پیش کریں گے، تب ان کو معلوم ہوگا کہ ان کی گزشتہ عمرگو یا اس آئندہ عمر کے مقابلے پر رائیگاں گئی۔بہت شدید ضرورت ہے۔کیونکہ صرف یہی نہیں کہ نئے علاقوں میں احمدیت کے متعلق مطالبے پیدا ہور ہے ہیں بلکہ جو پہلے سے احمدی ہو چکے ہیں، ان کی ٹھوس تربیت کے لئے بہت ضروری ہے۔جب تک ان کی بدر سمیں وہاں سے دور نہ کی جائیں، ان کو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پاکیزہ تعلیم سے روشناس نہ کرایا جائے، جس پر آپ نے اپنی سنت کے ذریعے عمل کر کے دکھایا اور ان تمام بد رسموں سے ان کو پاک نہ کیا جائے ، جو بعد کے زمانوں میں دین حق میں داخل ہوئیں، اس وقت تک محض یہ کہہ دینا کہ اتنے گاؤں احمدیت میں داخل ہو گئے اور اتنے ہزار نفوس احمدیت میں داخل ہو گئے، یہ کھوکھلی سی بات ہوگی۔اور ہم کھوکھلی باتوں کے لئے پیدا نہیں کئے گئے۔ہمیں جہاں جہاں بھی خدا کا میابیاں عطا فرماتا ہے، فوراً مغز کی طرف توجہ دینی چاہیے۔فوراً انتہائی کوشش کرنی چاہیے کہ صحیح دین اپنی تمام حسن و خوبی کے ساتھ ان قوموں میں داخل ہو جائے۔اس لئے ہمیں بہت سے محنت کرنے والے مخلصین کی ضرورت ہے۔ضلع شاہ جہان پور میں جہاں مدتوں سے جماعت نے بڑھنا اور پھولنا پھلنا بند کردیا تھا۔اور وہاں کی جماعت کے بعض لوگ، جب ان سے خط و کتابت ہوتی تھی، یہ لکھا کرتے تھے کہ یہ علاقہ سنگلاخ ہے، جو ہو گیا، ہو گیا۔اب یہاں سے کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے ایک بہت ہی مخلص مربی نے وہاں جا کر کوششیں شروع کیں اور گاؤں گاؤں پہنچے تو ان کو غیر معمولی کامیابی نصیب ہونا شروع ہو گئی۔مخالفتیں بھی ہیں، ہمخالفتوں کی کوکھ سے برکتیں بھی جنم لے رہی ہیں، رحمتیں بھی پیدا ہو رہی ہیں۔641