تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 542 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 542

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 13 فروری 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم لا ز مامایوی کے نتیجے میں ہے۔آپ جائزہ لے کے دیکھ لیں، وہ لوگ جو ان باتوں کو سنتے ہیں اور ان کے دل پر اثر بھی پڑتا ہے، وہ کیوں ایسا نہیں کر سکتے ؟ اس لئے کہ دل میں ایک بے یقینی ہے، کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ تو بہت بڑی بات ہے۔اگر ایسا ہونے لگے تو چند سالوں میں ساری دنیا پر احمدیت غالب آ جائے۔یہ کہانیاں ہیں، یہ قصے ہیں، یہ اچھی باتیں ہیں، اچھے ارادے ہیں، اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔یہ خیال ہیں، جو نیک لوگوں کے دل میں نسبتا نیکی کے روپ میں داخل ہورہے ہوتے ہیں، بدلوگوں کے دل میں تنقید کی شکل میں داخل ہورہے ہوتے ہیں۔اور بد تر لوگوں کے دل میں تضحیک کے رنگ میں داخل ہورہے ہوتے ہیں، مذاق اڑانے کی خاطر داخل ہورہے ہوتے ہیں۔لیکن ہیں یہ ایک ہی بیماری کی مختلف شکلیں، مختلف اس کے درجات ہیں۔کبھی یہ مہلک ہو کر ظاہر ہورہی ہے، کبھی یہ ابتدائی خراش پیدا کر رہی ہے۔ہر منزل پر اس بیماری کو کچلیں کیونکہ آپ کے عمل پر براہ راست اس کا اثر پڑتا ہے۔ہر احمدی کو یقین کرنا چاہئے۔مجھے کئی خطوط ایسے ملتے ہیں، جن میں مختلف رنگ میں یعنی بڑے بڑے اچھے مخلصین کی طرف سے بھی ان باتوں پر تبصرہ ہوتا ہے اور اس سے مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح یہ بیماری بھیس بدل کر جس طرح قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ شیطان بھیس بدل کر داخل ہوتا ہے، کس طرح یہ اچھے اچھے مخلصوں کے دل میں بھی بھیس بدل کر داخل ہو جاتی ہے۔ایک دوست نے لکھا کہ آپ کہتے ہیں، وعدہ کرو کہ سال میں ایک احمدی بناؤں گا۔آپ بتائیں کہ انسان کے بس میں ہے کیا؟ جب تک خدا کی تقدیر نہ ہو، اس وقت تک کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔اس لئے جو چیز خدا کے ہاتھ میں ہے، اس کے متعلق میں وعدہ کر لوں اور پھر جھوٹا بنوں ، یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ اصل میں وہی بے یقینی پن ہے، اگر انسان کو آخرت پر یقین ہو تو آخرت تو خدا کی خاطر ہے۔آپ خدا کی خاطر کام کریں اور خدا آپ کو پھل سے محروم کر دے، یہ وہم آپ کے دل میں کیوں پیدا ہوتا ہے؟ اس کا نام مایوسی ہے۔کامل توکل کے نتیجے میں یہ وعدہ ہوتا ہے اور ایک مومن یقین رکھتا ہے کہ میں اس وعدے کو پورا کروں گا۔پھر اگر نہ کر سکے تو جھوٹا اسے نہیں کہا جاسکتا۔ان کو اس معاملہ میں جھوٹ کی تعریف کا ہی علم نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ کے وعدوں کے متعلق بھی یہ فرمایا کہ انجان آدمی بیوقوف اور جاہل آدمی بعض دفعہ سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے وعدہ خلافی کی ہے۔حالانکہ یہ سنت ہے کہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔اور اس کے باوجود بعض وعدے پورے ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔اس لئے کہ ان وعدوں میں مخفی شرائط ہوتی ہیں۔اور شرائط کے ٹلنے کی وجہ سے وعدہ ملتا ہے۔اور ایسا شخص جو ایسا وعدہ 542