تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 540
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 13 فروری 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہفتہ لَا جِدُ رِيحَ يُوْسُفَ لَوْلَا أَن تُفَبِّدُونِ (یوسف: 95) اس کا یہی مطلب تھا کہ مجھے تو یوسف کی خوشبو آ رہی ہے اور میں جانتا ہوں کہ تم میرے منہ پر مجھے پاگل نہیں کہہ سکتے لیکن تمہارا دل یہی کہ رہا ہے اندر سے کہ اس کو تو کچھ ہو گیا ہے، یہ تو پاگلوں والی باتیں کرتا ہے۔لولا ان تفندون خواہ تم دیوانہ سمجھو، دیوانہ قرار دو، جوکہوں کہو مگر مجھے کامل یقین ہے کہ یوسف آنے والا ہے، مجھے اس کی خوشبو آرہی ہے۔فتح اسلام سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہی محاورہ استعمال فرمایا ہے:۔آ رہی ہے اب تو خوشبو میرے یوسف کی مجھے دیوانہ میں کرتا ہوں اس کا انتظار (در مشین: 130) پس ہم تو ان دیوانوں کے غلام ہیں، جن کے یقین کو کوئی دنیا کا طعنہ بھی تبدیل نہیں کر سکا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب ہونے کے بعد ہم آپ کے انتظار میں شامل ہو چکے ہیں۔اور اس یقین کے ساتھ شامل ہو چکے ہیں، جس یقین کے ساتھ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام اپنے یوسف کا انتظار کر رہے تھے۔پس جب میں کہتا ہوں کہ اگلے سال سے پیمانے بدل دو، ہزاروں کو لاکھوں میں تبدیل کر دو۔تو جس طرح حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں میں سے بعض نے ضرور یہ سمجھا ہوگا کہ یہ تو دیوانوں کی بڑ لگتی ہے۔اس طرح خواہ آپ کا مجھ سے کیسا ہی تعلق ہو اور پیار ہو، آپ میں سے بہت سے ایسے ہوں گے، جو سوچتے ہوں گے کہ اسلام کے پیار میں اور محبت میں ایسی باتیں کر رہا ہے۔لیکن بظاہر یہ ہونی ممکن نہیں ہے۔لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ممکن ہے اور آپ کے ہاتھوں ممکن ہے۔آپ یقین تو پیدا کریں۔کیونکہ یقین پیدا کئے بغیر عمل میں قوت پیدا نہیں ہوتی عمل میں جان نہیں پڑتی۔اور آخرت پر یقین ہے، جو غیر ممکن چیزوں کو ممکن کر کے دکھا دیا کرتا ہے۔کامل یقین کی ضرورت ہے۔انگریزی کا ایک محاورہ ہے کہ شخص کو یہ پتہ نہیں تھا کہ یہ چیز ناممکن ہے۔سو وہ آگے بڑھا اور اس نے کر دکھائی۔تو جن لوگوں کی ڈکشنری میں ناممکن کا لفظ نہ ہو ، وہ لوگ جن کی ڈکشنریاں ناممکن سے بھری ہوتی ہیں، وہ ان چیزوں کو ناممکن دیکھ رہے ہوتے ہیں، ناممکن سے خالی ڈکشنریوں والے ان کو ممکن کر کے دکھاتے چلے جاتے ہیں۔540