تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 539
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد مصف -- اقتباس از خطبه جمعه فرموده 13 فروری 1987ء 35 آرہی ہے اب تو خوشبو میرے یوسف کی مجھے خطبہ جمعہ فرمودہ 13 فروری 1987ء۔۔۔اب جماعت احمدیہ کے سامنے جو کام ہے، ساری دنیا کو فتح کرنا، یہ ان کاموں میں سے ہے، جن کو جو باہر سے دیکھنے والا ہے، وہ ہمارے معاملے میں پاگل پن قرار دے گا۔آپ کو معقول سمجھتا رہے بے شک، لیکن آپ کے اس خیال کو پاگل پن سمجھے گا۔وہ کہے گا کیوں بیوقوف ہو گیا ہے؟ کیا ہو گیا ہے، اس کی عقل کو ؟ اچھی بھلی باتیں کر رہا تھا اور اچانک کہنے لگ گیا ہے: ہم دنیا پہ غالب آجائیں گے۔انٹرویو کے دوران مختلف قسم کے جو انٹرویو ہوتے ہیں، ان کے دوران میں نے بھی یہ محسوس کیا ہے اور وہ اندر سے مجھ پر ہنس رہے ہوتے ہیں اور میں اندر سے ان پہ ہنس رہا ہوتا ہوں۔وہ اس لئے ہنستے ہیں اندر سے کہ شریف لوگ اکثر جو انٹرویو لینے والے ہیں ، وہ کوشش یہی کرتے ہیں کہ بدتہذیبی کا مظاہرہ نہ ہو۔منہ یہ نہیں کہتے اور ہنسی بھی آئے تو اسے ضبط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔جب وہ پوچھتے ہیں کہ کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ غالب آجائیں گے اور تمام دنیا کو فتح کرلیں گے؟ اور میں کہتا ہوں: ہاں، مجھے کامل یقین ہے۔تو اس کا چہرہ بتا دیتا ہے، سوال کرنے والے کا ، اس کی آنکھیں بتارہی ہوتی ہیں کہ اگر وہ اکیلا ہوتا تو قہقہہ مار کے ہنس پڑتا کہ کیا ہو گیا ہے، ان لوگوں کو ؟ اچھی بھلی معقول باتیں کرتے کرتے اچانک پاگلوں والی باتیں شروع کر دیں۔اور میں اس لئے دل میں مسکراتا ہوں کہ اس کو پتا نہیں ہے کہ کیوں ہم یقین کر رہے ہیں؟ اس لئے کہ ایسی ناممکن باتیں ہمیشہ سے ہوتی چلی آئی ہیں۔اس لئے کہ مذہب کی تاریخ ، اس کی ساری تاریخ گواہی دے رہی ہے کہ ایسی ناممکن الوقوع باتیں ہمیشہ وقوع پذیر ہوتی رہیں۔اور جو یقینی دکھائی دیتی تھیں باتیں، وہ غیر یقینی ہوگئیں۔یقینی چیزیں صفحہ ہستی سے ہمیشہ کے لئے مٹادی گئیں اور بظاہر غیر یقینی چیزیں منصہ شہود پر اس طرح قوت کے ساتھ ابھری ہیں اور اس استحکام کے ساتھ قائم رہی ہیں کہ پھر ان کے مٹانے کا کوئی سوال باقی نہیں رہتا۔پس قرآن کریم نے جو آخرت پر یقین پر زور دیا ہے، وہ اسی لئے دیا ہے۔یقین کے نتیجے میں بعض دفعہ انبیاء کو پاگل قرار دیا گیا ہے اور اپنوں کے ذریعے بھی قرار دیا گیا ہے۔حضرت رت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بچوں سے کہا:۔539