تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 472 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 472

خطبہ جمعہ فرمودہ 07 نومبر 1986ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم لائے تو میں نے ان کو کہا کہ آج آپ نماز پڑھائیں۔ظہر کی نماز تھی تو انہوں نے کہا: مجھے نماز پڑھانی نہیں آتی۔اگر وہ ویسے کہہ دیتے کہ میں جھجکتا ہوں تو اور بات تھی۔میں نے کہا کہ نماز پڑھائی نہیں آتی، کیا مطلب؟ آپ کو بلکہ ہر احمدی کو نماز پڑھانی آنی چاہئے۔یہ کیا مطلب ہے کہ نماز پڑھانی نہیں آتی ؟ انہوں نے کہا: جی دیکھی ہوئی ہے لیکن کبھی پڑھائی نہیں۔میں نے کہا: پھر پڑھانے میں کیا حرج ہے؟ اگر آپ کو پڑھانی نہیں آتی تو آپ نے بارہا دیکھا ہوا ہے، ساری عمر اس میں گزاری ہے، پڑھائیں آگے جائے۔چنانچہ نماز پڑھانے کے بعد مجھے محسوس ہوا ، ان کو کہنے کے بعد، مجبور کرنے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ غلطی کی تھی ان کی پہلے کچھ تربیت ہونی ضروری تھی۔کیونکہ وہ شاید میرے کہنے کی وجہ سے ایسا اثر پیدا ہو گیا، کچھ نروس ہو گئے یا پہلی دفعہ نماز پڑھانے کے نتیجہ میں ایسا ہو کہ اللہ اکبر کی بجائے سمع الله لمن حمدہ۔سمع اللہ کی بجائے الله اکبر۔سجدے میں جاتے وقت ربنا ولک الحمد کہہ رہے ہیں۔وہ ایسی اکھڑی نماز کہ پچھلے نمازیوں کے لئے ہنسی برداشت کرنی مشکل۔بڑی مشکل سے نماز کا وقت گزارا۔اس وقت بھی خاص طور پر مجھے خیال آیا تھا کہ ہم ایک بات سے غافل ہو گئے ہیں۔اسلام ہم سے تقاضے کرتا ہے، سید پیدا کرنے کے ، سردار پیدا کرنے کے، امام پیدا کرنے کے اور ہم مقتدی پیدا کر کے سمجھتے ہیں کہ ہم نے ذمہ داریاں ادا کر دیں۔یہ تو ایک ایسا عظیم الشان راز ہے قوموں کی ترقی کا ، جس کو اہل اسلام نے بھلا دیا۔لیکن بعض غیر قوموں کے غیر معمولی لیڈروں نے اختیار کیا اور اس سے بڑا فائدہ اٹھایا۔اگر چہ یہ ظلم کیا کہ اس سے منفی رنگ میں فائدہ اٹھایا یعنی فائدہ تو اٹھایا لیکن اس سے فائدہ اٹھانے کے بعد دنیا کی ہلاکت کے لئے استعمال کیا لیکن بنیادی طور پر راز یہی تھا۔جب جنگ عظیم اول ہوئی تو عالمی طاقتوں نے یہ غور کیا کہ جرمنی کے متعلق ایسی کارروائیاں کرنی چاہئیں کہ پھر کبھی اٹھ ہی نہ سکے۔اور اس کو پھر کبھی یہ خیال نہ آسکے کہ میں بھی دنیا میں کوئی فوجی کردار ادا کر سکتا ہوں۔چنانچہ جو انہوں نے جو بہت سے اقدامات کئے، ان میں ایک یہ بھی اقدام تھا کہ ان پر پابندی لگ گئی کہ غالباً ایک لاکھ یا اس کے لگ بھگ سے زیادہ تم فوج نہیں رکھ سکو گے اور اس سے زیادہ آدمیوں کو فوجی ٹرنینگ تم دے ہی نہیں سکتے۔ان کا خیال تھا کہ جنگیں ایک دم تو نہیں شروع ہو جاتیں ، جس قوم کی فوج صرف ایک لاکھ ہو، یورپ جیسے ترقی یافتہ علاقے میں اس سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔اور بھی بعض ذرائع اختیار کئے۔لیکن ایک یہ تھا، ہٹلر کو ایک بہت قابل جرنیل نے مشورہ دیا کہ اس مسئلہ کوحل کرنا تو بہت آسان ہے۔ہم ایک لاکھ سپاہی پیدا کرنے کی بجائے ایک لاکھ افسر تیار کرتے ہیں۔جہاں تک تعداد کا 472