تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 471
تحریک جدید - ایک الہی تحریک خطبہ جمعہ فرموده 07 نومبر 1986ء ہو جائیں تو ان کی نسلیں خود بخود ٹھیک ہونی شروع ہو جائیں گی۔اور بھی غیر معمولی پاک تبدیلیاں ان کے اندر پیدا ہونی شروع ہو جائیں گی۔اس ضمن میں اور بھی بہت سے امور سامنے آتے رہے، جن کے متعلق مختلف وقتوں میں جماعتوں کو، مجالس عاملہ کو ہدایات دیتارہا ہوں۔لیکن مختصر جماعتوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جب وہ سر جوڑ کے بیٹھیں گے اور پروگرام بنا ئیں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ خود ان کے ذہن میں بھی بہت سی باتیں ابھریں گی۔نئے نئے رستے اللہ تعالیٰ ان پر روشن فرمائے گا۔دوسرا اہم پہلو جس کی طرف ساری دنیا کی مجالس عاملہ کو توجہ دینی چاہئے ، وہ تربیتی لٹریچر کی تیاری ہے۔ہر ملک کے لحاظ سے اس کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے تربیتی لٹریچر تیار ہونا ضروری ہے۔اور اس میں اسلام کے بنیادی تقاضوں کو ملحوظ رکھا جائے۔کم سے کم طور پر ایک شخص مسلمان کیسے بنتا ہے؟ اسے کیا معلوم ہو تو وہ مسلمان بن جاتا ہے؟ جب یہ باتیں آپ سکھائیں گے لٹریچر میں بھی اور تربیت کے ذریعہ بھی تو آپ کو یہ بات بھی پیش نظر رکھنی پڑے گی کہ اسلام میں محض مقتدی بنانے کا تصور نہیں بلکہ امام بنانے کا تصور ہے، لیڈرشپ پیدا کرنے کا تصور ہے۔اسی لئے کوئی پیشہ ور ملاں اسلام میں موجود نہیں ہے۔ہر شخص سے اسلام توقع رکھتا ہے کہ اگر جماعتیں اس کو چنیں ، عوام اس پر اعتماد کریں تو وہ قیادت کی صلاحیتیں بھی اپنے اندر رکھتا ہو اور قیادت کے سلیقے جانتا ہو۔نماز کیسے پڑھائی جاتی ہے، یہ بھی ہر مسلمان کے لئے جاننا ضروری ہے؟ صرف نماز پڑھنا ضروری نہیں بلکہ نماز پڑھانے کا علم ضروری ہے۔محض یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ مسلمان ہو کر اپنی پیدائش اور اپنی موت کو بعض علماء کے سپرد کر دے کہ جس طرح چاہیں، وہ سلوک کریں۔اس کو اہل ہونا چاہئے اس بات کا یہ سب مسائل کا علم ہونا چاہئے کہ بچے کس طرح پیدا ہوتے ہیں؟ ان کے کیا حقوق ہیں؟ اور لوگ جب مرتے ہیں تو ان کے کیا حقوق ہیں؟ بیاہ شادی کس طرح کئے جاتے ہیں؟ ہر احمد کی اس بات کا اہل ہونا چاہئے کہ اسلام میں جو کم سے کم سیادت کی ضرورتیں ہیں، ان سے وہ پوری طرح واقف اور آشنا ہو۔اور اسے تجربہ بھی ہو۔محض دیکھنے سے یہ بات حاصل نہیں ہوتی۔مجھے یاد ہے وقف جدید میں ہم نماز ظہر و ہیں پڑھا کرتے تھے کیونکہ کام کے وقت دوسری جگہ جانا مشکل ہوتا تھا۔باہر مسجد میں چھوٹی تھیں۔بالکل نزدیک کی ایک جو مسجد تھی، اس سے زیادہ نمازی وہاں آ جاتے تھے۔چنانچہ با قاعدہ وہیں مسجد بنائی ہوتی تھی نماز ظہر کے لئے ، وہاں ایک کمرہ وقف تھا۔ایک دفعہ وہاں ایک اچھے خاصے مخلص دوست خدام الاحمدیہ کے کاموں میں بڑے پیش پیش اور واقف تھے، وہ تشریف 471