تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 443 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 443

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد؟ خلاصہ خطاب فرمودہ 26اکتوبر 1986ء مغرب سے دین کا سورج دوبارہ ابھرے گا اور سارے عالم کو روشن کر دے گا خطاب فرمودہ 126 اکتوبر 1986ء بر موقع سالانہ اجتماع مجالس خدام الاحمدیہ یورپ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ کا بے انتہا فضل اور اس کا احسان ہے کہ اس نے خدام الاحمدیہ کے تیسرے یورپین اجتماع کو غیر معمولی رونق عطا فرمائی۔اور منتظمین کی جتنی توقعات تھیں، ان سے بہت بڑھ کر اجتماع کی حاضری بڑھادی۔گزشتہ سال اجتماع کی حاضری آٹھ سوتھی ، جبکہ امسال اٹھارہ سو سے بھی زائد ہے۔یہ غیر معمولی اضافہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے۔اس اجتماع میں شامل ہونے والوں کی کثیر تعداد جرمنی کے خدام کی ہے۔جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جرمنی میں دو ہزار کے قریب خدام ضرور ہوں گے۔فعال نو جوانوں کی اتنی بڑی تعداد کسی ملک کو عطا ہو جائے تو اس ملک کی کایا پلٹ سکتی ہے۔اس لئے آپ شیروں کی طرح یہ عزم لے کر اٹھیں کہ اس ملک کو دین حق کے لئے فتح کرنا ہے۔دینی اصطلاح میں فتح سے مراد دلوں اور روحوں پر قبضہ ہے، نہ کہ ظاہری فتح اور دلوں اور روحوں پر قبضہ سے پہلے خود مفتوح ہونا پڑتا ہے۔جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے کہ عشق اول در دل معشوق پیدا می شود پس حقیقت میں ہماری فتح سے مراد دنیاوی فتح نہیں بلکہ وہ روحانی فتح ہے، جس کے نتیجہ میں جو مغلوب ہوتے ہیں، وہ بھی فاتح بن جاتے ہیں اور نجات پا جاتے ہیں۔فرمایا۔۔۔”جرمنی میں خدام کی حاضری سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ یہاں ترقی کے نمایاں امکانات ہیں۔کیونکہ نو جوانوں میں کام کی ہمت ہوتی ہے اور خدمت کا جذبہ بھی ہوتا ہے، وہ اپنے آپ کو مٹادینے کی طاقت بھی رکھتے ہیں، ان میں مالی اور جانی قربانی کی بھی زیادہ ہمت ہوتی ہے۔اس لحاظ سے جرمنی کو ایک فوقیت ہے کہ یہاں احمدیوں کی تعداد زیادہ نو جوانوں پر مشتمل ہے۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ جرمن قوم زیادہ سعادت مند اور سلیم فطرت ہے۔یہ لوگ سنجیدہ مزاج رکھتے ہیں اور غیر قوموں کو قبول کرنے کے لئے ان میں وسعت قلبی بھی ہے۔ان کو تنگ دل کہنا امر واقعہ کے 443