تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 424
خطبہ جمعہ فرمودہ 10 اکتوبر 1986ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم کے لئے کیبن وغیرہ نہیں ہوتا تو انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو دی۔آئی۔پی میں بٹھانا چاہتے ہیں، آپ ہمارے ساتھ وہاں تشریف لے آئیں اور وہاں ٹھہریں۔اب یہ بات مجھے تو قطعا کوئی فرق نہیں پڑتا۔میں نے بہت سفر کئے ہیں، چاہے تھرڈ کلاس ہو یا کسی قسم کی ہو، میر امزاج ہی نہیں ان باتوں کو اہمیت دینے کا کہ سیٹ کیسی ہے؟ جہاں بیٹھیں لطف اٹھاتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی قدرت کے اور ملنے کا بھی مزہ آتا ہے۔لیکن میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان کی سعادت کا یہ حال ہے کہ ویسے وہ مذہب سے دور ہیں عام طور پر لیکن مذہب کا احترام بھی ہے، ان کے دل میں۔یہ واقعہ ابھی ختم نہیں ہوتا، اس سے اگلا حصہ نہیں اور زیادہ حیرت انگیز ہے۔ان کی شرافت کے نتیجے میں ہمارے ایک ساتھی نے سوچا کہ واپسی کا کپتان پتہ ایسا ملے یا نہ ملے کہ ان سے ہی کہہ دیں کہ واپسی کے لئے جو بھی کپتان ہو، اس کو بھی درخواست کر دیں، ہماری طرف سے۔اب یہ بات سخت شرمندہ کرنے والی تھی، میرے لئے۔انہوں نے تھوڑی سی بات کی تھی کہ واپسی پہ تو ہمارا، شاید فلاں وقت ہو۔تو میں سمجھ گیا، میں نے کہا: ان کو ہر گز نہیں کہنا اور کوئی وقت نہیں بتانا۔میں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔میں نے کہا: جزاک اللہ بہت بہت شکریہ، بس بات ختم ہو گئی۔واپسی پر ہم نے ایک عجیب و غریب اعلان سنا، جو ریڈیو کے ذریعہ سب جہازوں کو Message اس کپتان کی طرف سے جا رہا تھا۔اور Message تھا کہ غالباً فلاں وقت سے لے کر فلاں وقت تک جماعت احمدیہ کے سربراہ وکٹوریہ سے دو بینکور واپس جارہے ہوں گے۔جس جہاز کے کپتان کو یہ سعادت ملے کہ ان کے ساتھ وہ سفر کریں میں درخواست کرتا ہوں کہ وہ ان کو VIP Treatment دیں اور ان کے ساتھ ہر قسم کا حسن سلوک کریں۔اور اس کے ساتھ ہی کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ وہ کپتان صاحب تشریف لائے اور انہوں نے کہا کہ آپ آجائیں، اوپر کا کمرہ آپ کے لئے حاضر ہے۔اور جو جہاز کی طرف سے ہمارے سارے عملہ کی خاطر مدارت ہو سکتی تھی، وہ انہوں نے کی۔اسی عرصہ میں وہ پہلا جہاز بھی پاس سے گزرا اور نیوی کے طریق کے مطابق جو Salute دینے کا جو طریقہ ہے، وہ بھی اختیار کیا۔اب کوئی حکومت کا نمائندہ نہیں ہوں ، کوئی حکومت کی طرف سے ان کو ہدایت نہیں تھی۔یہ ساری باتیں ظاہر کر رہی ہیں کہ اس قوم کے مزاج میں ایک سعادت ہے۔خود بے مذہب سے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے دل میں مذہب کے لئے احترام پایا جاتا ہے، انسانی قدریں بھی پائی جاتی ہیں۔اس لئے جماعت احمدیہ کو خصوصیت کے ساتھ کینیڈین قوم کا شکریہ، دعا کے ذریعہ ادا کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ان کو دنیاوی لحاظ سے بھی ہر قسم کے فتنوں اور خطروں سے بچائے اور روحانی لحاظ سے بھی تیزی کے ساتھ اسلام کی گود میں آ کر خدا تعالیٰ کی رحمت کے سایہ تلے آنے کی توفیق عطا فرمائے ، آمین۔مطبوعہ خطبات طاہر جلد 15 صفحہ 659 672) 424