تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 423
تحریک جدید- ایک الہی تحریک خطبہ جمعہ فرمودہ 10 اکتوبر 1986ء ہوں، وہاں کی مجالس میں غیر احمدی پاکستانی دوستوں نے نہ صرف شمولیت کی بلکہ غیر معمولی تعلق کا اظہار کیا۔اور آخری سفر میں وینکوور (Vancouver) میں تو ساتھ امریکہ کے شہروں سے بھی بعض غیر احمدی دوست تشریف لائے ہوئے تھے۔وہاں وینکوور میں بسنے والے جو بھی پاکستانی سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے ہیں، ان میں معزز ترین وہ سارے تشریف لائے ہوئے تھے اور مجلس کے بعد اس قدر محبت کا انہوں نے اظہار کیا کہ میں حیرت سے دیکھ رہا تھا کہ مولوی یہ کر کے گئے ہیں، یہ اثر ان کے اوپر چھوڑ کے گئے ہیں۔بجائے متنفر ہونے کے اور زیادہ قریب آئے ہوئے تھے۔اور ایک دوست جو امریکہ سے تشریف لائے ہوئے تھے ، ان کو دیکھ کر ، ان کی جو طر ز تھی ، ان کے پیار اور محبت کی ، اس کو دیکھ کر میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ آج ہی یہ بیعت کرلیں۔اور اتفاق ایسا ہوا کہ دو جنین دوست ایک ان میں سے کویتی ہیں اور ایک مسلمان جین تھے، ان دونوں نے فیصلہ کیا کہ آج ہم مغرب کی نماز کے وقت بیعت کریں گے۔چنانچہ جب انہوں نے بیعت شروع کی، پھر میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ وہ دوست کہاں گئے؟ ان کے چہرے پر بڑی سعادت اور شرافت تھی اور ان میں بڑا محبت کا طبعی جذبہ پایا جاتا تھا۔وہ بھی ساتھ شامل ہو جاتے تو کتنا اچھا ہوتا۔اور جب میں نے سر اٹھایا تو تیسرے آدمی وہ تھے، جو ہاتھ رکھ کے بیعت کر رہے تھے۔اور بیعت ختم ہوتے ہی مجھے کہا کہ میری صرف ایک درخواست ہے۔میں نے کہا: کیا ہے؟ کہ اب مجھے گلے لگنے دیں اور اس محبت سے گلے لگایا۔میں نے ان سے کہا کہ آپ تو میری دعا کا جواب ہیں۔صبح بھی میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی تھی اور اب بھی بیعت کے دوران میں سوچ رہا تھا کہ کاش وہ بھی ہوتے تو وہ بھی ہاتھ رکھ لیتے اور وہ بھی شامل ہو گئے۔وہاں صرف کینیڈین دوستوں میں ہی سعادت نہیں بلکہ وہاں جو پاکستانی بس رہے ہیں، ان میں بھی سعادت پائی جاتی ہے۔بہت جگہ ہے کام کی ، بہت گنجائش ہے۔اور جو مولوی جاتے ہیں، وہ الٹا اثر چھوڑ کر آتے ہیں۔اس لئے بہت دعا میں یا درکھیں کینیڈا کی سرزمین کو۔ہر پہلو سے اللہ تعالیٰ ان کی سعادت کو بڑھائے۔اور جو نیکی انہوں نے جماعت سے کی ، اس کی جزاء دے۔ایسا ایک طبعی رد عمل ہے، جس کا آپ اندازہ نہیں کر سکتے۔جو محسوس کرے، جو ان باتوں سے گزرا ہو، اس کو اندازہ ہوتا ہے کہ عام قوموں سے مختلف ہے۔میں ایک مثال دیتا ہوں، چھوٹی سی۔لیکن اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے مزاج میں ایک ایسی سعادت اور شرافت پائی جاتی ہے۔ایک جزیرے سے دوسرے جزیرے تک تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ کا سفر تھا، جہاز کا۔جب جہاز کے کپتان کو پتہ چلا کہ جماعت احمدیہ کا سر براہ سفر کر رہا ہے، وہاں الگ بیٹھنے 423