تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 422
خطبہ جمعہ فرموده 10 اکتوبر 1986ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم چنانچہ اس پہلو سے بھی کینیڈین کار عمل دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت بہت ہی زیادہ نمایاں تھا۔انگلستان میں بھی علماء آتے ہیں اور بہت زیادہ یہاں آکر گند بولتے ہیں اور شدید گالیاں دیتے ہیں ، فساد پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اور جو بھی ان کے اندر طاقت ہے، اس کو استعمال کرتے ہیں۔تا کہ جماعت احمد یہ کوکسی طرح نقصان پہنچ جائے۔لیکن انگریزوں میں ایسا نمایاں ردعمل نہیں دیکھایا یہ ہمیشہ سے ہی ان معاملات میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کے اوپر کوئی ان باتوں کا اثر ہی نہیں پڑتا ، Conservative قوم ہے یا بیچ میں سے خوش ہوتے ہوں گے کہ مسلمان لڑرہے ہیں آپس میں، ہم Enjoy کرتے ہیں۔ہمیں کیا اس سے؟ لیکن جو طبعی رد عمل ہونا چاہئے ، وہ یہاں ظاہر نہیں ہوا۔لیکن کینیڈا میں حالانکہ جماعت احمدیہ کی تعداد یہاں کے مقابل پر بہت تھوڑی ہے، لیکن جہاں بھی میں گیا ہوں، وہاں پریس نے بھی، ریڈیو نے بھی ٹیلیویژن نے بھی یہ سوال اٹھایا ہے اور خوب اچھی طرح واقف تھے۔ایک پریس کا نفرنس میں ایک سردار صاحب بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔انہوں نے آخر پر کہا کہ سوال تو نہیں بنتا لیکن ایک بات پر میرے دل میں تعجب پیدا ہورہا ہے اور بڑی حیرت ہورہی ہے، مجھے ایک بات پر۔میں نے کہا: کیا بات ہے؟ کہنے لگے ، بات یہ ہے کہ ہندو بڑی کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح سکھ بھی ان کے کھاتہ میں شمار ہو جائیں اور سکھ کوشش کرتے ہیں کہ دوسرے جتنے بھی آسکتے ہیں، ان کے کھاتہ میں شمار ہو جائیں اور عیسائی بڑی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی تعداد بڑھے، یہ پاکستان کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ اپنا کھانہ کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ سارا زور اس بات پر لگا رہے ہیں کہ مسلمانوں کی تعداد کم ہو، زیادہ نہ ہو۔کہنے لگے، یہ مجھے سمجھ میں نہیں آرہی۔ان معنوں یہ سوال تو نہیں تھا کہ کوئی جواب دیا جاتا ، سننے والے سارے ہنس پڑے۔تو وہاں اس کثرت کے ساتھ ان علماء نے خود اپنی شکست کے انتظام کئے ہیں اور ان کا جواب دینے کی مزید اب ضرورت ہی کوئی نہیں رہی۔جہاں تک غیر احمد می سوسائٹی کا تعلق ہے، انگلستان کی غیر احمدی سوسائٹی کے مقابل پر کینیڈا کی غیر احمدی سوسائٹی کا رد عمل بھی بہت ہی زیادہ شریفانہ اور صحیح خطوط پر ہے۔چنانچہ وہاں کے بہت سے احمدی دوستوں نے حالات سنائے۔ان سے پتہ چلتا ہے کہ جو لوگ ان کی تقریروں میں شامل ہوئے ہیں، نہایت متنفر ہو کر واپس آئے ہیں۔بعضوں نے کھڑے ہو کر وہیں احتجاج کئے کہ تم کیا باتیں کر رہے ہو۔کیسی بے ہودہ ، لغو باتیں کرتے ہو۔وہ لوگ دلیلیں دیتے ہیں ، قرآن اور حدیث پیش کرتے ہیں، تمہیں گالیوں کے سوا آتا ہی کچھ نہیں۔اور دوسرے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، بعض تو ٹیلیویژن وغیرہ کے پروگرام کے بعد آئے۔لیکن علاوہ ازیں بھی جہاں جہاں بھی میں گیا 422