تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 421
تحریک جدید - ایک الہی تحریک خطبہ جمعہ فرمودہ 10 اکتوبر 1986ء اس کے بعد میں اس امر کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ مولویوں کی ایذارسانی جو بڑھتی جا رہی ہے، اس سے تکلیف تو ہے اور جماعت شدید اضطراب میں ہے، بے چینی محسوس کرتی ہے اور ہر وقت ایک سوال اٹھتارہتا ہے کہ کب آخر خدا ان کو پکڑے گا ؟ کب ہمارے دل اس لحاظ سے ٹھنڈے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کو سب دنیا میں نا کام اور رسوا کر کے دکھائے گا؟ تو میں اس پہلو سے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جو نیک اثرات میں دیکھ کے آیا ہوں، ان پر ضرور نظر رکھیں۔ان کی کوششوں کے جماعت پر کوئی بداثرات ظاہر نہیں ہور ہے بلکہ اتنے زیادہ نیک اثرات ظاہر ہورہے ہیں کہ اگر آپ تکڑی کے دونوں پلڑوں میں ڈال کے دیکھیں اور دیانت داری سے موازنہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ جو تکلیفیں یہ پہنچا رہے ہیں، اس کے مقابل پر جو اللہ تعالی انعامات عطا فرمارہا ہے، وہ بہت ہی زیادہ ہیں۔کوئی نسبت ہی نہیں آپس میں۔اس لئے ہے صبری نہ دکھا ئیں، اس بارہ میں۔دعا ئیں ضرور کریں۔لیکن یہ یقین رکھیں کہ ان کی ہر کوشش ناکام ہوتی ہے اور با مراد نہیں ہوتی۔اور جو لوگ ان کے پس پشت طاقتوں کو یہ مشورے دیتے ہیں کہ ان کو پیچھے بھجوا ؤ، یہ تعاقب کریں اور اس کے نتیجہ میں جہاں جہاں جماعت پھیلتی ہے، اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کریں۔وہ نہایت ہی احمقانہ مشورے دیتے ہیں۔کیونکہ جہاں جہاں مولوی جاتے ہیں، وہاں اپنی ناکامی کے سامان کر کے آتے ہیں اور جماعت احمدیہ کی ترقی کے لئے نئے دروازے کھول کر آتے ہیں۔چنانچہ کینیڈا میں بھی میں نے دیکھا کہ جہاں جہاں مولوی گئے تھے، وہاں سب سے پہلی بات تو یہ محسوس کی کہ کینیڈین سوسائٹی میں ان کے آنے کو اور ان کی حرکتوں کو نہایت نفرت کی نگاہ سے دیکھا ہے۔اور وہاں کے اخباری نمائندے سارے واقف تھے، جس جس نے بھی سوال کیا ہے، ٹیلیویژن والے بھی، ریڈیو والے بھی ، انہوں نے ان کے متعلق بھی سوال کیا ہے کہ یہ کیا کرتے پھرتے ہیں؟ کیسی احمقانہ باتیں کر رہے ہیں؟ کیسی بیوقوفوں والی باتیں کر رہے ہیں؟ یہ کر کیا رہے ہیں یہاں؟ آپ ہمیں بتائیں۔میں ان کو کیا بتا تا کہ یہ کیا کرنے آئے تھے۔ان کے پریس نے ہی بتا دیا تھا سارے ملک کو۔تو ایسے متنفر ہوئے وہ مولویت سے کہ جماعت احمدیہ کے لحاظ سے یہ خدا کے فضل سے ایک بہت ہی شاندار کامیابی ہے۔دوسرے اس سے پہلے ان کو اگر شک تھا بھی کہ جماعت احمدیہ پر پاکستان میں مظالم ہو رہے ہیں تو ان مولویوں نے وہ رہا سہا شک دور کر دیا، ہر کسر کو نکال دیا، سب و ہم دور کر دیئے ہیں، ان کے۔ان کا یہ تاثر ہے، بعض پرائیویٹ ملاقاتوں میں انہوں نے بتایا کہ جو یہاں آکر یہ حرکتیں کر رہے ہیں، وہاں کیا کرتے ہوں گے؟ ایک طبعی نتیجہ ہے، جو ان کی عقلوں نے نکالا۔اور یہ درست بات ہے۔421