تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 297 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 297

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہفتم پیغام فرمودہ 20 دسمبر 1985ء پس مبارک ہیں وہ، جو خدا تعالیٰ کی تقدیر کے دوش پر مسیح موعود کے مقصد کو پورا کرنے میں کوشاں ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے نفوس میں بھی برکت ڈالے گا اور ان کے ایمان اور اموال میں بھی۔اس فریضہ کی ادائیگی کے لیے زیادہ علم کی ضرورت نہیں۔جو چیز سب سے زیادہ اہم اور لا بدی ہے، وہ دعا ہے۔بلکہ زندگی کے ہر کام اور ہر ضرورت اور مشکل میں یہی انسان کا سہارا ہے۔جو غیر ممکن کو ممکن میں بدل دیتی ہے۔اور بے بس اور کمزور و ناتواں کو طاقتور ثابت کرتی ہے اور کامیابیوں سے ہمکنار کرتی ہے۔انسان کے کاموں میں برکتیں دعا ہی کے راستہ سے آتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام دعا کے بارہ میں فرماتے ہیں:۔وو وہ رحمت کو کھینچنے والی ایک مقناطیسی کشش ہے۔وہ موت ہے پر آخر کوزندہ کرتی ہے۔وہ ایک تند سیل ہے پر آخر کو کشتی بن جاتی ہے۔ہر ایک بگڑی ہوئی بات اس سے بن جاتی ہے اور ہر ایک زہر آخر اس سے تریاق ہو جاتا ہے۔پھر فرمایا:۔66 (لیکچر سیالکوٹ صفحہ 20 روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 222) وہ امر، جو ایک بجلی کی چمک کی طرح ایک دفعہ انسان کو تاریکی کے گڑھے سے کھینچ کر روشنی کی کھلی فضا میں لاتا اور خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑا کر دیتا ہے، وہ دعا ہی ہے۔دعا کے ذریعہ سے ہزاروں بدمعاش صلاحیت پر آجاتے ہیں، ہزاروں بگڑے ہوئے درست ہو جاتے ہیں۔" ایام الصلح صفحہ 34 روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 260) اس کا ثبوت یہ ہے کہ۔۔۔۔۔وہ، جو عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گز را کہ لاکھوں مردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہو گئے۔اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الہی رنگ پکڑ گئے۔اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے۔اور گونگوں کی زبان پر الہی معارف جاری ہوئے۔اور دنیا میں یک دفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا۔کچھ جانتے ہو کہ وہ کیا تھا؟ وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھیں، جنہوں نے دنیا میں شور مچادیا۔اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اس امی بے کس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں۔بركات الدعاء، روحانی خزائن جلد 6 صفحه 10,11) 297