تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 296 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 296

پیغام فرمود: 20 دسمبر 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ یا درکھو تالیف ایک اعجاز ہے“۔(آل عمران: 104) ( ملفوظات جلد اول صفحه (336) آج اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ عرب و عجم ، سرخ و سفید کو محبت کی لڑی میں پرو کر ایک ایسی جماعت بنادی ہے، جس کے ذریعہ اسلام کا غلبہ مقدر ہے۔اور غلبہ کے تصور کے ساتھ ہی جو بات ذہن میں ابھرتی ہے، وہ وہی اتحاد، یک جہتی اور باہمی محبت والفت ہے، جس کا آیت مذکورہ بالا میں ذکر ہے۔کیونکہ وہ فوج کبھی فتحیاب نہیں ہو سکتی، جو خود منتشر اور پراگندہ ہو۔اس لئے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور شاہراہ غلبہ اسلام پر چلنے کے لئے اپنے اختلافات اور جھگڑوں کے بوجھ کندھوں سے اتارنے ہوں گے۔اور صرف یہی نہیں بلکہ ایسے امور ، جو جماعت کی یک جہتی اور اتحاد کو نقصان پہنچانے والے ہوں، ایسے امور، جوفتنہ دانتشار کا موجب ہوں، ان کو دور سے ہی نفرت کے ساتھ دھتکارنا ہوگا۔دوسری بات جس کی طرف میں جماعت کو بار بار توجہ دلاتا ہوں اور دلا تار ہوں گا ، دعوت الی اللہ کے فریضہ کی ادائیگی ہے۔ہر احمدی چھوٹا ہو یا بڑا ، مرد ہو یا عورت، اسے خود کو اس کام میں جھونک دینا ہوگا۔کیونکہ ملیشیا میں جماعت کی ترقی کی رفتار تسلی بخش نہیں۔قرآن کریم نے امت مسلمہ کی ایک امتیازی شان یہ بھی بیان فرمائی ہے کہ وہ دوسروں کو ہدایت کی طرف بلاتے ہیں۔وہ قوم، جو دوسروں کی بھلائی کے لیے کوشاں نہ ہو، خدا تعالٰی کی نعمتوں کو محض اپنے تک محدود کرنے والی ہو، وہ خود بھی محدود ہوکر رہ جاتی ہے۔مگر جماعت احمدیہ کا ہرگز ہرگز یہ مقدر نہیں۔یہ خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے، جو بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں ، جو اس کو روک سکے۔ملیشیا میں اس درخت کی آبیاری آپ کے سپرد کی گئی ہے۔آپ نے اپنے آرام اور اوقات کو حج کر اس کو پروان چڑھانا ہے۔دعوت الی اللہ میں حائل تمام تکلفات اور جھجک کے پردوں کو چاک کر کے دوسروں کو دین ہدی میں شامل کرنا ہے۔یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا مقصد بس یہی تھا۔آپ فرماتے ہیں:۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جوز مین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں، کیا یورپ اور کیا ایشیاء، ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں، تو حید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے۔یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے، جس کے لئے میں دنیا میں بھیجا گیا۔سو تم اس مقصد کی پیروی کروگر نرمی اور اخلاق اور دعاؤں پر زور دینے سے۔وو (رساله الوصیت صفحه 8 ، 9 روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 306 307) 296