تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 226
خطبہ جمعہ فرمودہ 18اکتوبر 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم نے جو پہلے حسن سلوک کیا، آج بھی وہ اسی طرح جاری ہے۔اور باوجود اس کے کہ وہ خوب اچھی طرح جان چکے ہیں، بارہا اخبارات میں یہ بات چھپ چکی ہے کہ جماعت احمدیہ کو پاکستان میں غیر مسلم سمجھا جارہا ہے۔اور کثرت سے بعض حکومتوں کی طرف سے یہ پروپیگنڈا کیا گیا ہے کہ احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھو، ان سے کوئی تعلق نہ رکھو۔ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔اس کوشش کے باوجود خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی طرف ان کا رحجان خدا کے فضل سے پہلے سے بھی بڑھ کر ہے۔دوسرا اس تقریب میں جو نمایاں فرق تھا، وہ یہ تھا کہ بجائے اس کے کہ ایک لمبی تقریر کی جاتی نہایت مختصر الفاظ میں، میں نے ان کو خوش آمدید کہا اور ان کو موقع دیا کہ وہ جس قسم کے سوال اسلام پر یا اپنے مسائل پر کرنا چاہتے ہیں، وہ کریں۔چنانچہ اس سے یہ تقریب خدا کے فضل سے بہت ہی پر لطف اور بھر پور رہی۔اس کثرت سے دوستوں کی طرف سے پھر سوال شروع ہوئے کہ آخر پر پھر مجھے خود ہی روکنا پڑا۔کیونکہ بعد میں مہمانوں کی چائے سے تواضع بھی کرنی تھی۔بعض ایسے معزز مہمان تھے، جو معین وقت کو مد نظر رکھ کر آئے تھے اور انہوں نے اپنی دوسری تقریبات میں بھی جا کر حصہ لینا تھا۔بہر حال اگر چہ وقت زیادہ بھی ہو گیا تھا لیکن یہ سارے لوگ ٹھہرے رہے، ان میں سے کوئی بھی نہیں گیا۔چند ایک نے چائے میں شمولیت سے معذرت کی کیونکہ ان کو پہلے ہی بہت دیر ہو چکی تھی۔مگر تقریب کے دوران خدا کے فضل سے تمام احباب مرد، عورتیں اور بچے پوری طرح توجہ کے ساتھ بیٹھے رہے۔اور بعض مواقع پر تو بڑی نمایاں انہوں نے Response دی ہے۔یعنی ان کا طریق ہے تالیاں بجانے کا، تالیاں بجا کر بھی اور پھر کھڑے ہو کر تالیاں بجا کر بھی بڑے جوش کے اظہار سے انہوں نے اپنی محبت کا اپنے رنگ میں اظہار کیا۔وہاں اخبارات کی نمائندگی کے علاوہ مختلف قسم کے ریڈیو ٹیشن ہیں، جن کی طرف سے میر صاحب کو بار بار ٹیلیفون پر بلایا جاتا تھا کہ Running Commentary کردو اور بتاؤ کہ تقریب میں کیا ہو رہا ہے؟ کون کون آئے ہیں؟ کیا مقصد ہے؟ اور کہتے تھے کہ آپ فون پر جو باتیں کہ رہے ہیں، یہ براہ راست نشر ہو رہی ہیں۔چنانچہ اسی دوران پانچ، چھ مرتبہ میر صاحب کو بار بار توجہ دینی پڑی۔اور کئی ریڈیوسٹیشنز نے ان کا Interview Live نشر کیا۔اور ریڈیو اور ٹیلی وژن، جو ہم سے خبریں لے کر گئے، وہ انہوں نے بہر حال بعد میں نشر کرنی تھیں، لائیو پروگرام یہاں سے ممکن نہیں تھا۔اخبارات کی Response بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت اچھی تھی۔کیونکہ جو اخبار میر صاحب نے دکھایا تھا، اس میں خدا کے فضل سے بہت ہی اچھا Coverage تھا۔لیکن وہ بتارہے تھے کہ بعد میں ہم اکٹھا کر کے انشاء اللہ تراجم کر کے بھیجیں گے۔226