تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 227 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 227

تحریک جدید - ایک الہی تحریک خطبہ جمعہ فرمودہ 18 اکتوبر 1985ء غرناطہ میں جو تقریب تھی ، یہ عوامی دعوت کی تقریب نہیں تھی۔کیونکہ ان کو تاکید کی گئی تھی کہ ہوٹل میں یہاں کے دانشوروں کو بلایا جائے اور یونیورسٹیوں کے نمائندہ، شاعر اور آرٹسٹ اور ہر قسم کے طلبہ اور دیگر دانشور جو کہلاتے ہیں، زیادہ تر ان لوگوں کو بلایا جائے تاکہ ان کو اسلام کے متعلق سوال و جواب کا موقع ملے۔چنانچہ خدا کے فضل سے یہ تقریب بھی بڑی بھر پور رہی۔اس میں تو اتنی دیر لگ گئی کہ جو چائے کا وقت تھا ، وہ گزر کر کھانے کے وقت میں تبدیل ہو گیا اور پھر بھی ابھی سوال باقی تھے۔پھر میں نے ان سے کہا کہ ، ہے اب ہم مجبور ہیں، بعض دوست بیچاروں کو جانا ہوگا، اس لئے چائے پہ چلتے ہیں۔چنانچہ چائے یا کافی کے بعد چونکہ بعض دوستوں کو طلب تھی، اس لئے میں نے ان سے دوبارہ کہ دیا کہ اگر کوئی دوست ٹھہر نا چاہتے ہیں، ان میں سے کسی کے سوال رہ گئے ہیں تو وہ بے شک دوبارہ آجائیں۔چنانچہ بہت سے دانشوران میں سے تشریف لے آئے۔اور انہوں نے ایک شکوہ کیا کہ آپ نے بیچ میں اخباری نمائندوں کو اور ریڈیو کے نمائندوں کیوں بلالیا ؟ ان کی وجہ سے ہماری مجلس جس طرح ہم چاہتے تھے، جم نہیں سکی۔ان کو اپنے کاموں میں جلدی ہوتی ہے، ان کے سوال اور قسم کے ہوتے ہیں۔ہم تو بڑی سنجیدگی کے ساتھ آپ سے مختلف گہرے مضامین پر آپ سے سوال کرنا چاہتے تھے۔چنانچہ ان میں ایک شاعر بھی تھے، جن کے متعلق ایک دوسرے سپینش شاعر نے جو خود بھی تشریف لائے ہوئے تھے، بتایا کہ اس وقت یہ سپین کے بہترین شاعر ہیں۔سارے پین میں صرف اندلس کے نہیں بلکہ چوٹی کا کلام کہنے والے اور بہت ہی گہرا اثر رکھنے والے، تمام بڑی تقریبات میں ان کو خصوصیت سے دعوت دی جاتی ہے۔وہ بھی اور بعض دوسرے دانشور اور یونیورسٹیوں کے طالب علم وہاں بیٹھ گئے۔اور یہ مجلس بھی رات تقریباً ساڑھے گیارہ بجے تک یا بارہ بجے تک چلتی رہی۔صبح دوسرے دن چونکہ ہم نے جانا بھی تھا، جو دوست بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے خود بھی کھانا کھانا تھا، اس لئے آخر پر پھر ان سے اجازت لینی پڑی۔لیکن ان کے سوالات سے اندازہ ہوا کہ اس وقت باقی یورپ کی طرح سپین میں بھی دہریت عام ہو رہی ہے۔اور مذہب کا جو پہلے خیال تھا، کھوکھلا سا ایک تصور تھا، اب وہ تصور بھی ٹوٹ رہا ہے۔چنانچہ جب میں ایک موقع پر وہاں پید رو آباد میں مجھ سے یہ سوال کیا گیا کہ آپ کے نزدیک Roman Catholicism اور اسلام میں سے کون جیتے گا؟ کس کا مستقبل ہے؟ تو میں نے ان کو یہ جواب دیا جہاں تک Roman Catholicism کا تعلق ہے، وہ تو مر چکا ہے۔کیونکہ Roman Catholicism اگر کامیاب ہوا ہوتا تو تمہاری قوم دہر یہ نہ ہو رہی ہوتی۔اگر Roman Catholicism کامیاب ہوا ہوتا تو 227