تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 225
تحریک جدید - ایک الہی تحریک خطبہ جمعہ فرمودہ 18 اکتوبر 1985ء شہروں میں جب پوچھا گیا کہ کوئی مسجد یہاں ہے پرانی کہ نہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ جس گرجے میں جاؤ ، وہ مسجد تھی۔چنانچہ جب ہمارے مشنری نے جا کر دیکھا تو پتہ چلا کہ واقعہ وہ صحیح کہہ رہے تھے۔جس گرجے میں وہ گئے، پرانی مسجد کے آثار ملتے تھے۔ابھی تک بعض جگہ کلمہ توحید لکھا ہوا نظر آتا تھا۔بعض جگہ یہ تختیاں لگی ہوئی تھیں کہ فلاں بزرگ آئے تھے، فلاں بادشاہ یہاں آئے تھے۔تو خوشکن تو اس لحاظ سے ہے کہ اہل سپین ہمیشہ سے ہی احمدیت کا خدا کے فضل سے کھلے بازوؤں سے استقبال کرتے ہیں۔لیکن دوسری جو فضا ہے، وہ اس طرح یادوں پر اثر ڈالتی ہے کہ گہرے غم کے سائے میں انسان چلا جاتا ہے۔اور ایسا غم نہیں، جو مایوس کن ہو۔ایسا غم ہے، جو زیادہ انگیخت کرتا ہے، زخموں کو زندہ کرنے والا غم ہے، ان زخموں کو چھیڑتا ہے، جن کے نتیجہ میں پھر ارادے کھلتے ہیں۔لیکن ان اثرات کے جو نتائج ہیں، ان کے متعلق میں پھر آخر میں ، میں بات کروں گا۔اس وقت تو میں یہ بتاتا ہوں کہ وہاں دو جگہ ہماری بڑی تقریبات تھیں۔ایک تو پید رو آباد کے اندر اس سارے علاقے کے لئے۔اور ایک غرناطہ میں۔میڈرڈ ہم اس دفعہ نہیں جاسکے۔اگر چہ وہاں بھی مشن موجود ہے لیکن سفر کے دوران وہ ایک رستہ پر رہتا تھا اور وقت کی کمی تھی ، اس لئے لازما ہمیں میڈرڈ کو پنے پروگرام میں سے مجبوراً کاٹنا پڑا۔پیدروآباد میں جو تقریب ہوئی ہے، اس میں خدا تعالیٰ کے فضل سے مقامی باشندوں کی اتنی حاضری تھی کہ میرا تا ثر بھی یہی تھا اور میر صاحب ( سید محمود احمد ناصر صاحب کا بھی یہی تاثر تھا کہ افتتاحی تقریب پر جو باہر سے آنے والے احمدی مہمان تھے، اگر ان کو نکال دیا جائے تو سپینش باشندوں کی شمولیت اس میں زیادہ تھی۔دو ہزار کرسیوں کا انتظام تھا، جن میں سے ایک سو چونکہ بہت تیز دھوپ میں پڑی ہوئی تھیں، وہ خالی رہیں، باقی انہیں سوکرسیاں بھر گئیں۔اور برآمدہ جو بڑا وسیع ہے، اس میں لوگ بھرے ہوئے تھے اور اس کے علاوہ بھی پھرنے والے موجود تھے۔تو خدا تعالیٰ کے فضل سے دو ہزار سے زائد سپینش مہمان آئے ہوئے تھے اور تقریب اس دفعہ کچھ مختلف رنگ کی تھی۔اسی تقریب میں عوام الناس کے علاوہ خواص کو بھی دعوت دی گئی تھی۔اور یہ صرف مقامی جلسہ نہیں تھا بلکہ سپین کے خواص کی نمائندگی بھی گزشتہ مرتبہ کے مقابل پر زیادہ تھی۔چنانچہ امریکن قونصلیٹ اور ان کے ساتھی ، آسٹرئین قونصلیٹ اور سپینش گورنمنٹ کے نمائندے اور بھی اس قسم کے معززین اور دانشور، پریس کے نمائندے، چوٹی کے جو اخبارات ہیں، ان کے نمائندے، ریڈیو، ٹیلی وژن کے نمائندے، یہ سارے موجود تھے۔تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سپین والوں 225