تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 224 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 224

خطبہ جمعہ فرمودہ 18 اکتوبر 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم ایک جرمنی کے شمال میں ہیمبرگ میں ہمارا مشن بہت چھوٹا ہو چکا تھا۔وہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے زمین کا ایک بہت ہی اعلیٰ اور وسیع ٹکٹڑ امل رہا ہے، جس علاقے کے مئیر نے وعدہ بھی کیا ہے کہ معاہدہ میں شامل کرلوں گا کہ مسجد آپ بنا سکتے ہیں۔دوسرے تعمیر کی وہاں بڑی وسیع گنجائش موجود ہے۔یعنی ایسا علاقہ ہے، جہاں جرمنی میں پہلے سے ہی تعمیر کی اجازت دی جا چکی ہے۔ورنہ جرمنی میں زمینوں کا حاصل کرنا ، جہاں تعمیر کی جاسکے، بہت ہی مشکل کام ہے۔اور اگر آپ بغیر اجازت کے زمین لے لیں تو سالہا سال کی کوششوں کے بعد بھی بعض دفعہ وہ درخواستیں رد ہو جاتی ہیں۔دوسرے جرمنی ہی میں میونخ کے مقام پر وہاں کچھ زمینیں ہم نے دیکھی تھیں مگر ابھی کوئی مناسب حال جگہ نہیں ملی ، ابھی تک۔وہاں بھی انشاء اللہ ایک مسجد اور ایک مشن ہاؤس بنانا ہے۔سپین میں غرناطہ کے مقام پر بہت کثرت کے ساتھ وہاں طلب ہے۔اس قدر طلب ہے کہ جس علاقے میں ہم زمین دیکھنے جاتے تھے، وہاں ایک خوشی کی لہر دوڑ جاتی تھی اور لوگ باتیں کرتے تھے۔علاقے والوں کو میئر کہتے تھے کہ ہمارے علاقے میں مسجد بنے گی۔فرانس کے مقابل پر اس قوم کا بالکل بر عکس رحجان ہے۔اخباری نمائندے بھی سوال کرتے تھے کہ بتاؤ کس علاقے کو تم نے چنا ہے؟ چنانچہ وہاں متعدد جگہ پر زمینیں دیکھی گئیں اور ایک دو جگہیں جو پسند آئی ہیں، ان کے متعلق گفتگو ہورہی ہے۔دونوں بہت ہی آبادسٹرکوں پر واقع ہیں۔وسیع کشادہ سڑکیں، جو بڑے بڑے شہروں کو ملاتی ہیں۔دونوں سڑک سے بالکل لگتی ہیں یا اتنی قریب ہیں کہ وہاں سے گزرنے والوں کو مسجد بڑی نمایاں طور پر نظر آئے گی۔ایک کا رقبہ تو خدا کے فضل سے بارہ ایکڑ سے بھی زائد ہے اور کونے کا پلاٹ ہے، جس کے ایک طرف مین روڈ جاتی ہے اور ایک طرف چھوٹی سڑک جاتی ہے۔وہاں جب ہم گئے تو وہاں بھی ایک ہنگامہ ہو گیا۔لوگ وہاں اکٹھے ہونے شروع ہو گئے لٹریچر مانگ مانگ کر لوگ لینے لگے۔یہاں تک کہ میر محمود احمد صاحب جو ساتھ تھے، کہنے لگے: ہمارے پاس تو ختم ہو گیا ہے۔لیکن مطالبہ جاری تھا۔ایک شوق ، ایک طلب جو عموماً سپین میں پائی جاتی ہے، جس کا اس زمین کے خریدنے کے موقع پر بھی مشاہدہ کیا۔سپین کا دورہ ، جہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے کئی لحاظ سے بہت کامیاب بھی رہا اور کئی لحاظ سے دل پر نہایت غم کے اثرات چھوڑنے والا تھا۔اور سپین میں رہنا بہت ہی مشکل تجربہ تھا۔کیونکہ میں نے جیسا کہ پین کے خطبہ جمعہ میں بھی ذکر کیا ہے، کثرت سے ایسے گرجے وہاں پائے جاتے ہیں، جو کسی زمانہ میں مسجدیں ہوا کرتی تھیں۔اب ان میں کوئی خدا کا نام لینے والا باقی نہیں۔اس کثرت سے ہیں کہ بعض 224