تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 202 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 202

خطبہ جمعہ فرمودہ 27 ستمبر 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم تک نہیں کہا۔اتنا اس کو احساس نہیں پیدا ہوا، اتنی شرم نہیں آئی کہ ساتھ ہی لیٹا ہوا ہے، کہا اس کا منہ چاٹ رہا ہے کہ میں ہٹا ہی دوں ، اس کو ہش ہی کہہ دوں۔اس شخص کی بات ہی چھوڑ وہ بڑا ہی نکھا آدمی ہے۔اس نے کہا: آپ دونوں ہی معذور ہیں، میں یہاں سے رخصت ہوتا ہوں۔میں نے کہا: اب اللہ کی تقدیر بیرگرا چکی ہے ، آپ کے سرہانے پڑا ہے اور آپ ہاتھ ہلا کر وہ بیر ہی اٹھا کر منہ میں نہیں ڈال سکتے ؟ اس وقت تو بیعتوں کا یہی حال نظر آ رہا ہے۔نہ صرف پھل پکے ہیں بلکہ گر رہے ہیں، آپ کے پاس پڑے ہوئے ہیں۔اگر آپ نے ان پھلوں کو نہیں اٹھایا تو جانور کھائیں گے یا یہ گل سڑ جائیں گے، دشمنوں کے ہاتھ لگ جائیں گے۔یہی موسم ہے تبلیغ کا اور خدا تعالیٰ کے عطا کر وہ پھلوں سے استفادے کا۔اس لئے دائیں بھی کوشش کریں، بائیں بھی کوشش کریں۔آگے بھی ، پیچھے بھی۔اپنے سارے ماحول میں تلاش کریں۔کہاں سعید فطرت روحیں موجود ہیں؟ اور ان کی طرف توجہ کریں، محبت سے، پیار سے، اخلاص سے، اخلاق کے ساتھ۔بعض دفعہ ان کو جھنجھوڑتے ہوئے۔اور پھر دیکھیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے اندر کیسی تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔اور خاص طور پر دعاؤں سے کام لیں۔کیونکہ جیسا کہ میں بار بار بیان کر چکا ہوں، سب سے بڑا خزانہ ، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس دور میں ہمیں دیا ہے، وہ دعاؤں کا خزانہ ہے۔عجیب دولت عطا فرما دی ہے۔ہر ستی کا علاج یہی دعا ہی ہے، ہر کمزوری کا علاج یہی دعا ہی ہے، ہر مسئلہ جو انسان کے لئے پیدا ہوتا ہے، اس کو دعاحل کر دیتی ہے۔اس لیئے دعا پر بہت زور دیں۔اور جو دعا کی عادت ڈالے گا، وہ دیکھے گا کہ اس کے اعمال کے نتائج میں کتنا فرق پڑ جاتا ہے۔عام آدمی بھی محنت کرتا ہے لیکن دعا کرنے والے کی محنت کو بہت زیادہ پھل لگتے ہیں۔ایک دفعہ حضرت مصلح موعود سندھ دورے پر گئے۔اس زمانے میں موسم خراب تھے ، اس لئے عمومی فصلیں گندی تھیں۔تو سارے پھر کے دیکھا، اکثر فصلیں بڑی خراب تھیں۔ایک علاقے میں گئے تو وہاں ساری فصلیں اچھی لہلہاتی ہوئی۔ہمارے وہاں جو مینجر تھے، ان سے حضرت صاحب نے پوچھا، مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری اس وقت مینجر ہوا کرتے تھے۔حضرت صاحب نے پوچھا کہ مولوی صاحب آپ نے یہ کیا تدبیر کی ہے؟ بڑے بڑے پرانے تجربہ کار زمیندار مینیجر ہیں اور ان کی فصلیں بالکل بے کار ہیں۔آپ کی فصل بہت اچھی ہے، آپ کو کون سا نسخہ ہاتھ آ گیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ حضور میں تو زمیندار ہوں ہی نہیں، میرا تجربہ کوئی نہیں۔مجھے تو صرف ایک نسخہ ہاتھ آیا ہے۔میں نے ہر کھیت کے ہر کونے پر دو دو نفل پڑے ہیں اور دعائیں کی ہیں۔اے خدا! میں کچھ نہیں جانتا، سلسلے کا کام ہے ، سلسلے کا مال ہے تو اپنے فضل سے برکت عطا فرما۔202