تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 201 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 201

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہی خطبہ جمعہ فرمودہ 27 ستمبر 1985ء عربوں میں بھی دیکھی گئی ہے کہ جو احمدی ہوتا ہے، اس قدر محبت اس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ہو جاتی ہے کہ ان کو دیکھ کر رشک آتا ہے۔کاش جماعت کے ہر فرد میں ایسا تہی عشق کا رنگ پیدا ہو جائے۔چنانچہ ان دونوں جوانوں میں سے ایک نے کہا کہ میرے دل میں تو سوائے اس کے اور کوئی ترکیب نہیں آرہی کہ ہر احمدی یہ عہد کرے کہ وہ سال میں ایک احمدی ضرور بنائے گا۔میں نے کہا: تم نے میرا کوئی خطبہ سنا ہے یا حضرت خلیفة المسیح الثانی کی کوئی کتاب پڑھی ہے، جس میں یہ ذکر تھا۔یہ خیال کس طرح آیا۔اس نے کہا کہ یہ ترکیب خدا تعالیٰ نے خود میرے دل میں ڈالی ہے۔اور کہا کہ میں عہد کرتا ہوں بلکہ میں تو زیادہ عہد کر رہا ہوں۔اس نے کہا کہ میں تو انشاء اللہ تعالی زیادہ بناؤں گا۔لیکن ہر احمدی ایک بنائے۔اور یہ کہہ کر اس نے کہا کہ میں نے بہت سوچا ہے اور بہت غور کیا ہے کہ یہ بہت ہی آسان کام ہے، بالکل مشکل نہیں۔معمولی سی توجہ اور دعا کے ساتھ ایک انسان کوشش کرے تو اس کو پھل مل جاتا ہے۔تو جو چیز آسان ہو، جو چیز ہماری دسترس میں ہو، اس کو نہ لینا جبکہ اللہ کی تقدیر وہ پھل ہاتھ میں پکڑانا چاہتی ہو، یہ بڑی محرومی ہے۔ایک موقع پر گجرات کی بات ہے، وہاں ایک جماعت میں، میں نے ان کو جا کر سمجھایا تبلیغ کے متعلق گفتگو کی تو ان کو میں نے مثال دی۔میں نے کہا: آج کل ہوا چلی ہوئی ہے، یہاں بھی خدا کے فضل سے اور تم سوچ نہیں رہے کہ تمہاری مثال کیا ہے ؟ کافی بیچارے ست تھے، اس لئے مجھے ان سے تھوڑی سی سختی بھی کرنی پڑی۔میں نے کہا: تمہاری مثال تو ان دو افیموں کی سی ہوگئی ہے، جو ایک بیری کے درخت کے نیچے لیٹے ہوئے تھے اور افیم کے نشے میں دھت۔ایک کے پاس ایک اچھا سا موٹا سا بیر آ کے گرا۔تو اس نے دوسرے دوست سے کہا کہ بیر ذرا میرے منہ میں ڈال دو۔اس نے کہا: جاؤ جاؤ اپنا کام آپ کرو، میں آرام سے لیٹا ہوں۔خیران کی رات گزرگئی۔کچھ عرصے کے بعد ایک مسافر جارہا تھا، مسافر گھوڑے پر سوار جار ہا تھا کہ اس شخص نے اس کو آواز دی۔اس نے کہا: بھائی ذرا اترو! ایک بات سن جاؤ ضروری۔اس بیچارے نے اتر کر درخت سے اپنا گھوڑا باندھا۔اس نے پوچھا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا کہ ایک بیر پڑا ہوا ہے، میرے سرہانے یہ ذرا اٹھا کر میرے منہ میں ڈال دینا۔مسافر کو بڑا غصہ آیا۔اس نے کہا: تم بڑے ذلیل آدمی ہو، مجھے راستہ چلتے گھوڑے پر سے اتارا کہ یہ بیر میرے منہ میں ڈال دو۔تم سے آپ نہیں اٹھایا گیا۔اتنے میں دوسرے آدمی نے بھی توجہ شروع کی کہ کیا گفتگو ہورہی ہے؟ وہ بیچ میں بول پڑا۔کہتا ہے: جناب! آپ کو اندازہ نہیں، یہ کیسا ذلیل آدمی ہے۔ساری رات کتنا میر امنہ چاھتارہا، اس کمبخت نے ہش 201