تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 184 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 184

ارشادات فرموده دوران دورہ یورپ 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک اس سوال کے جواب میں کہ اتنے زیادہ مشن ہاؤس کھولنے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا آپ کی جماعت کی تعداد بہت زیادہ ہے یا کوئی اور وجہ ہے؟ حضور نے فرمایا:۔”سب سے پہلی ضرورت تو یہ ہے کہ آپ نے عیسائی مشن ساری دنیا میں قائم کیسے ہوئے ہیں، کیا آپ مسلمانوں کے لئے یہ ضرورت نہیں سمجھتے کہ وہ یورپ میں مشن کھولیں؟ یہ سوال مجھے بہت ہی عجیب محسوس ہوتا ہے۔اگر آپ اپنا مذہب ساری دنیا میں پھیلانے میں کوشاں ہیں تو ہم اپنے مذہب کی اشاعت محبت ، تبادلہ خیال اور مسلسل جدوجہد کے ذریعہ کیوں نہ کریں؟ مشن اس لئے نہیں بنائے جار ہے کہ کچھ لوگ انہیں استعمال کریں۔بلکہ اس لئے بنائے جارہے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان سے استفادہ کریں۔ان مشنز کو بنانے کا مقصد جماعت کو بڑھانا ہے تا کہ اسلام کے پیغام کومزید پھیل سکیں۔ایک اور سوال کے جواب میں حضور نے فرمایا:۔جرمنی میں ہماری جماعت دو ہزار گھرانوں پر مشتمل ہے۔اس کے علاوہ انڈونیشیا، جنوبی افریقہ پر یوگنڈا، کینیا، تنزانیہ، موریطانیہ، ہندوستان، بنگلہ دیش، فنی اور ماریشس میں بڑی بڑی جماعتیں موجود ہیں۔ہماری جماعت ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔آپ سوئس لوگوں کے لئے کیا کر رہے ہیں؟ فرمایا: میں سوئس (swiss) لوگوں کے لئے بہت فکر مند ہوں۔ان کے نوجوان زیادہ تر لادینیت کی طرف رجحان ظاہر کر رہے ہیں۔پہلے میرا خیال تھا کہ انہیں علم ہی نہیں کہ مذہب کی بنیادی تعلیم کیا ہے؟ لیکن اب تو وہ لادینیت کا پرچار کر رہے ہیں اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس طرف مائل ہو رہے ہیں، جو کہ بہت ہی قابل تشویش امر ہے۔یہ نوجوان مستقبل میں سوسائٹی کو چیلنج کریں گے اور نظم و ضبط کے لئے ایک مسئلہ پیدا کر دیں گے۔اس لئے تمام مذہبی تنظیموں کے لئے یہ لحہ فکریہ ہے۔ہم سب کا خدا ایک ہے، اس لئے ہمیں اس نوجوان نسل کو واپس لانا چاہیے۔اور بتانا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی موجود ہے۔اس کے بغیر سوسائٹی کا وجود خطرے میں ہے۔گزشتہ جنگ میں سوئس سوسائٹی محفوظ رہی مگر آئندہ آنے والی تباہی میں مجھے اس سوسائٹی کی حفاظت نظر نہیں آتی۔اگر اس نے اپنے خالق کی طرف رجوع نہ کیا تو یہ بہت خطرناک صورت حال ہوگی۔پس نو جوانوں کو خدا تعالیٰ کی طرف لانا ہی سب سے اہم مسئلہ ہے۔انہیں مسلمان بنانا بعد کی بات ہے۔184