تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 127
تحریک جدید - ایک الہی تحریک پیغام فرمودہ 28 جولائی 1985ء چاہیے کہ آپ میں سے بھی ہر ایک اس جانکا ہی اور دلسوزی کے ساتھ فریضہ تبلیغ ادا کرے۔اور چین سے نہ بیٹھے، جب تک مغرب سے سچائی کے سورج کے طلوع ہونے کے آثار ہویدا نہ ہو جائیں۔اور وہ صبح صادق نمودار نہ ہو جائے ، جس کی بشارت مخبر صادق نے ہمیں 1400 برس پہلے دی تھی۔مغرب سے اس طلوع آفتاب کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔"" اس عاجز پر جو ایک رویا میں ظاہر کیا گیا، وہ یہ ہے، جو مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ممالک مغربی ، جو قدیم سے ظلمت کفر و ضلالت میں ہیں، آفتاب صداقت سے منور کئے جائیں گے اور ان کو اسلام سے حصہ ملے گا۔اور میں نے دیکھا کہ میں شہر لنڈن میں ایک منبر پر کھڑا ہوں اور انگریزی زبان میں ایک نہایت مدلل بیان سے اسلام کی صداقت ظاہر کر رہا ہوں۔بعد اس کے میں نے بہت سے پرندے پکڑے، جو چھوٹے چھوٹے درختوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔اور ان کے رنگ سفید تھے اور شائد تیتر کے جسم کے موافق ان کا جسم ہو گا۔سو میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ اگر چہ میں نہیں مگر میری تحریریں ان لوگوں میں پھیلیں گی اور بہت سے راست باز انگریز صداقت کا شکار ہو جائیں گے۔در حقیقت آج تک مغربی ملکوں کی مناسبت دینی سچائیوں کے ساتھ بہت کم رہی ہے۔گویا خدا تعالیٰ نے دین کی تمام معقل ایشیا کو دے دی۔اور دنیا کی عقل تمام یورپ اور امریکہ کو۔نبیوں کا سلسلہ بھی اوّل سے آخر تک ایشیا کے ہی حصہ میں رہا اور ولایت کے کمالات بھی انہیں لوگوں کو ملے۔اب خدا تعالیٰ ان لوگوں پر نظر رحمت ڈالنا چاہتا ہے۔(ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ 276,277 روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 376,377) پس اے میرے عزیزو! آپ کامل یقین اور توکل اور صبر اور استقلال اور جانسوزی اور وفاداری کے ساتھ اپنی تمام صلاحیتوں سے کام لیتے ہوئے ان روشن دنوں کو قریب تر لانے کی کوشش کرتے رہیں، جن کا آنا آسمان پر مقدر ہو چکا ہے۔اور دعا سے بھی کسی وقت غافل نہ رہیں۔کیونکہ یہ دعا ہی ہے، جو ہماری کوشش کے بے رنگ خاکوں میں کامیابی کے رنگ بھرتی ہے۔اور ہمارے منصوبوں کی بے جان تصویروں کو زندگی عطا کرتی ہے۔بظاہر یہ کام ہماری طاقت سے بڑھ کر اور سخت مشکل بلکہ محال نظر آتا ہے۔مگر بہر حالت یہ ہو کر رہے گا۔یہ ایک تقدیر مبرم ہے، جسے کوئی ٹال نہیں سکتا۔127