تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 126 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 126

پیغام فرمودہ 28 جولائی 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔۔جلد هفتم یورپ کے احمدی نوجوانوں کا دوسرا فرض یہ ہے کہ وہ زندگی بھر اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں کی خدمت اور ہمدردی اور چارہ جوئی اور کچی غم خواری میں وقف رہیں۔اور نہ صرف زبان سے بلکہ اپنے عمل سے اور پاک نمونہ سے ثابت کر دیں کہ انسانی تعلقات کے دائرہ میں بھی اسلام کی تعلیم ہر دوسری تعلیم سے کردیں افضل واعلیٰ اور اکمل اور احسن ہے۔حضرت اقدس مسیح موعوداس تعلیم کا نچوڑ چند فقروں میں یہ بیان فرماتے ہیں:۔" قرآن انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ اپنے دشمنوں سے پیار کرو بلکہ وہ کہتا ہے کہ چاہئے کہ نفسانی رنگ میں تیرا کوئی بھی دشمن نہ ہو اور تیری ہمدردی ہر ایک کے لئے عام ہو۔مگر جو تیرے خدا کا دشمن، تیرے رسول کا دشمن اور کتاب اللہ کا دشمن ہے، وہی تیرا دشمن ہوگا۔سو تو ایسوں کو بھی دعوت اور دعا سے محروم نہ رکھ۔اور چاہیے کہ تو ان کے اعمال سے دشمنی رکھے، نہ ان کی ذات سے۔اور کوشش کرے کہ وہ درست ہو جائیں۔اور اس بارے میں فرمایا ہے:۔إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَابْتَائِ ذِي الْقُرْبَى یعنی خدا تم سے کیا چاہتا ہے؟ بس یہی کہ تم تمام نوع انسان سے عدل کے ساتھ پیش آیا کرو۔پھر اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ ان سے بھی نیکی کرو، جنہوں نے تم سے کوئی نیکی نہیں کی۔پھر اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ تم مخلوق خدا سے ایسی ہمدردی کے ساتھ پیش آؤ کہ گویا تم ان کے حقیقی رشتہ دار ہو۔جیسا کہ مائیں اپنے بچوں سے پیش آتی ہیں۔کیونکہ احسان میں ایک خود نمائی کا مادہ بھی مخفی ہوتا ہے۔اور احسان کرنے والا کبھی اپنے احسان کو جتلا بھی دیتا ہے۔لیکن وہ ، جو ماں کی طرح طبعی جوش سے نیکی کرتا ہے، وہ کبھی خودنمائی نہیں کر سکتا۔پس آخری درجہ نیکیوں کا طبعی جوش ہے، جو ماں کی طرح ہو۔۔(کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 30,31) بنی نوع انسان سے سچی ہمدردی کا اولین تقاضا یہ ہے کہ ان کی مادی فلاح و بہبود سے بڑھ کر ان کی روحانی فلاح و بہبود کے لئے کوشش کریں۔اور اس کوشش میں اپنے آقا و مولی پیغمبر کامل حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلوب سیکھیں اور آپ ہی کے رنگ پکڑیں۔جس طرح آپ بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے ہمہ وقت غم وفسردگی میں مبتلا رہتے تھے اور اپنی جان کو یہ ایک روگ سال گار کھا تھا۔126