تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 77
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اقتباس از خطبه جمعه فرموده یکم اکتوبر 1982ء چنانچہ انشاء اللہ ہم اسلام کو خطرے کی حالت میں نہیں رہنے دیں گے۔جب تک ہم زندہ ہیں، یہ ناممکن ہے۔مگر جیسا کہ میرا تکلیف دہ مشاہدہ ہے کہ میں نے بعض کتب کا مطالعہ کیا ، جن میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم پر بے ہودہ حملے کئے گئے تھے، اس سے سخت تکلیف پہنچتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس سے ہمارا جگر چھلنی ہو جاتا ہے اور پھر ظلم کی بات یہ ہے کہ زبان ایسی استعمال کی جارہی ہے، جیسے کوئی دوست گفتگو کر رہا ہے نہ کہ دشمن۔اور اسلامی دنیا میں ان نام نہاد دوستوں کو بڑی پذیرائی ملتی ہے۔پھر ایک عجیب بات یہ ہے کہ یہ احمدیت کا ذکر ہی نہیں کرتے۔جہاں بھی انہوں نے اسلام پر اعتراض کیا ہے اور وہ سکالرز ہیں اور یقیناً انہوں نے احمد یہ لٹریچر کا مطالعہ کیا ہوا ہے۔بعض کے بارہ میں تو مجھے یقین ہے۔اور انہیں یہ بھی علم ہے کہ اس پہلو سے جماعت احمدیہ نے شاندار رنگ میں اسلام کا دفاع کیا تھا۔مگر وہ اس بارہ میں جماعت کا نام اور جماعت کے عقائد کا ذکر ہی بھول جاتے ہیں۔اس طرح وہ ایک ہی وقت میں دو مقاصد حاصل کر لیتے ہیں۔ایک یہ کہ ان کتب کا حوالہ دیئے بغیر جن میں کسی عالم دین نے اس بات کا دفاع کیا ہو، اسلام پر اعتراض کئے چلے جاتے ہیں۔اور دوسرے وہ غیر از جماعت دنیا کو خوش رکھتے ہیں اور ه دنیا اس طرح وہ اسلام کے وفادار ثابت ہو جاتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ دیکھو جماعت احمدیہ کوئی چیز نہیں۔اس کی حیثیت نہ ہونے کے برابر ہے۔انہوں نے اسلام کے دفاع کے بارہ میں جو کچھ بھی کہا ہے، وہ بے معنی ہے، سب مذاق ہے۔اور ہم ان کا ذکر بھی نہیں کرنا چاہتے۔جو بڑے بڑے علماء ہیں، وہ اتنی معمولی حیثیت کے مالک ہیں کہ عظیم مستشرقین کی عالی شان کتب میں ان کا ذکر بھی نہیں ہونا چاہئے۔چنانچہ اس طرح وہ تمام عالم اسلام کو خوش رکھتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ آپ دراصل بچے مسلمان ہیں۔آپ ہی کو علم ہے کہ اسلام کہاں ہے اور کہاں نہیں ہے؟ اور اس طرح یہ قریب بڑھتا ہی رہتا ہے۔مگر ہم انہیں چھوڑیں گے نہیں“۔وو چنانچہ مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ جلد ہی یہ نظام کام شروع کر دے گا۔اس کا آغاز انگلستان سے ہوگا۔میں جانے سے پہلے ان لوگوں کے نام جاننا چاہوں گا ، جو اس کام کے لئے خود کو وقف کر سکتے ہوں۔یہ جس پیشے سے بھی متعلق ہوں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔انہیں انگریزی اچھی طرح آنی چاہئے۔انہیں اسلام کے بارہ میں کچھ نہ کچھ علم ہو۔یہ نہ ہو کہ وہ قرآن کریم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بالکل ناواقف ہوں اور وہ دفاع اسلام کی یہ ذمہ داری اٹھائیں، یہ نہیں ہوسکتا۔میری مرادان سے ہے، جو کم از کم اسلام کا کچھ علم رکھتے ہوں اور جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا کسی نہ کسی حد تک مطالعہ کیا ہوا ہے اور وہ اسلامی اقدار کے دفاع کی کچھ نہ کچھ طاقت رکھتے ہیں۔77