تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 853
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم پیغام بر موقع جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ سیرالیون کہ جس نے میری اطاعت کی، اس نے خدا کی اطاعت کی۔اور جو میری نافرمانی کرے گا ، و خدا کا نافرمان ہے۔اور جو امیر کی اطاعت کرتا ہے، اس نے میری اطاعت کی۔اور جو امیر کی نافرمانی کرتا ہے یا کرے گا، اس نے میری نافرمانی کی۔واضح رہے کہ عربی میں مضارع ، حال اور مستقبل دونوں زمانوں پر حاوی ہوتا ہے۔پس میری پہلی نصیحت اور پیغام آپ سے یہی ہے کہ اطاعت کا سبق اختیار کیجئے۔اطاعت صدیق بناتی ہے، اطاعت نور الدین بناتی ہے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔صحابہ کے دلوں پر نور اطاعت رسول کے نتیجہ میں نازل ہوا۔المفوظات جلد اوّل صفحہ 188 حضرت مسیح موعود کی بدولت اللہ تعالیٰ نے ہمیں پھر ایک ہاتھ پر جمع کیا ہے۔ہم نے حبل اللہ کو تھاما ہے۔اس کو مضبوطی سے تھام لو اور ہر قسم کے تفرقہ سے بچو کہ تفرقہ اور اختلاف جماعتی طاقت کو کمزور کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمُ (انفال: 47) کہ آپس میں اختلاف نہ کر دور نہ دل چھوڑ بیٹھو گے اور تمہاری طاقت جاتی رہے گی، ہوا اکھڑ جائے گی۔حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔من فارق الجماعة شبراً فمات مية جاهلية“۔(مسلم باب وجوب معذرت جماعت اسلمین ) کہ جو جماعت سے ایک بالشت بھی ادھر ادھر ہوا ، وہ گویا اسلام سے پہلے جاہلیت کی زندگی کی طرف عود کر گیا۔پس سیرالیون میں بسنے والے احمد یو! میرا پیغام یہ ہے کہ اطاعت کو لازم پکڑو کہ یہ خدا کے فضلوں کو جذب کرنے کا ذریعہ ہے۔تفرقہ نہ کرو کہ یہ جماعت کو کمزور کرنے کے مترادف ہے اور خدا کی ناراضگی کا سبب۔تاریخ اسلام شاہد ہے، جب تک مسلمانوں میں خلافت راشدہ رہی، نبوت سے متعلق انعامات مسلمانوں کو ملتے رہے۔وہ ایک ہاتھ پر جمع رہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خلفائے راشدین کے طریق کو اپنانے کی تلقین فرمائی۔آپ فرماتے ہیں:۔علیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدين المهديين 853